اسلام آباد دھماکا: سی ٹی ڈی کا مبینہ خودکش حملہ آور کے گھر پر چھاپا، دو بھائی اور خاتون گرفتار
اسلام آباد دھماکے میں ملوث مبینہ خودکش حملہ آور کے گھر پر کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پشاور نے چھاپا مارا ہے، پشاور میں مارے جانے والے چھاپے کے دوران خودکش حملہ کرنے والے کے 2 بھائی ایک بہنوئی اور ایک خاتون کو گرفتار کرلیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں خودکش حملہ کرنے والے دہشت گرد یاسر کے گھر پر چھاپہ مارا گیا ہے۔ چھاپے کے دوران یاسر کے دو بھائی بلال اور ناصر، بہنوئی عثمان اور ایک خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق مبینہ خودکش حملہ آور یاسر اپنے بہنوئی عثمان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا، جس کے شواہد تفتیش کے دوران سامنے آئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یاسر کے دو بھائی اور تین بہنیں ہیں، جبکہ گرفتار افراد سے مزید تفتیش جاری ہے۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ یاسر گزشتہ برس مئی میں افغانستان گیا تھا اور جون میں پاکستان واپس آیا تھا۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق واپسی کے بعد یاسر جون کے مہینے میں ضلع باجوڑ گیا، جہاں اس نے ایک سم کارڈ ایکٹیویٹ کیا۔ مبینہ خودکش حملہ آور 27 جون سے اکتوبر تک باجوڑ میں مقیم رہا، جس کے بعد وہ حکیم آباد نوشہرہ منتقل ہو گیا۔
سی ٹی ڈی حکام نے مزید بتایا کہ مبینہ خودکش حملہ آور نے دو فروری کو واقعے سے قبل کرائم سین کی ریکی بھی کی تھی، جس سے منصوبہ بندی کے شواہد ملے ہیں۔
حکام کے مطابق گرفتار ملزمان سے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور واقعے سے متعلق مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔
اسلام آباد میں مبینہ خودکش دھماکے کے معاملے پر سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ ہیں، جبکہ سی ٹی ڈی کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی مسجد میں خودکش دھماکہ ہوا تھا جس میں 32 افراد جاں بحق اور 169 زخمی ہوئے تھے۔
پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت کے علاقے ترلائی کلاں کے غازی شاہ امام روڈ پر مسجد کے گیٹ پر خودکش حملہ آور کو روکا گیا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا، پولیس ذرائع کے مطابق خارجی خودکش کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا۔
واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے 32 افراد شہید اور 169 زخمی ہونے کی تصدیق کر دی تھی، جس کے بعد وفاقی دارالحکومت کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔












