25 سال بعد لاہور میں بسنت کے تین روزہ فیسٹیول کا باقاعدہ آغاز ہوگیا
لاہور میں وہ تہوار جس کا شہر کو برسوں سے انتظار تھا، ایک بار پھر پچیس برس بعد پوری آب و تاب کے ساتھ واپس لوٹ آیا۔ لاہور بسنت کے رنگوں میں رنگ گیا۔
تین روزہ فیسٹیول کے پہلے ہی دن فضا رنگ برنگی پتنگوں سے بھر گئی، چھتیں آباد ہو گئیں اور ہر سمت ”بوکاٹا“ کی گونج سنائی دینے لگی۔ ہر طرف رنگ برنگی پتنگیں، گڈے اور بوکاٹا کی آوازیں سنائی دیں اور لاہور دلہن کی طرح سجا نظر آیا۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے بسنت کی راتیں گھروں کی چھتوں پر گزاریں، جہاں خاندان اور دوست احباب اکٹھے ہو کر تہوار کا لطف اٹھاتے رہے۔
موچی گیٹ کی تاریخی پتنگ مارکیٹ میں تل دھرنے کو جگہ نہ رہی۔ خریداروں کا رش اس قدر تھا کہ پتنگیں اور ڈور کم پڑ گئیں۔ مانگ بڑھتے ہی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے؛ پنے ہزاروں روپے میں فروخت ہونے لگے جبکہ پندرہ سو واٹ کی فلڈ لائٹس کی قیمت ڈیڑھ لاکھ روپے تک جا پہنچی۔
کاروباری سرگرمیوں نے پورے شہر کو متحرک کر دیا۔ دکانداروں کے مطابق طلب بڑھنے سے قیمتوں میں اضافہ ہوا، تاہم خریداروں کی دلچسپی میں کوئی کمی نہ آئی۔
بسنت کے موقع پر شہر میں ثقافتی رنگ بھی نمایاں رہے۔ ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے، گھروں اور چھتوں پر لاہوری کھابے تیار کیے گئے اور بسنت کے خصوصی ڈیزائن والے کیک، پیسٹریز اور مٹھائیوں کے تھال سجے، دوستوں اور رشتہ داروں کی بھرپور خاطر تواضع کی گئی۔
ہوٹلوں نے پہلے ہی ایڈوانس بکنگ مکمل کر لی تھی۔ نوجوان لڑکیوں نے مہندی رچائی، پراندے سنوارے اور روایتی لباس زیب تن کیے، جبکہ بچے بھی زرد اور رنگین لباس میں بسنت کے رنگوں میں رنگے نظر آئے۔
پچیس سال بعد لاہور کے آسمان پر پتنگوں کی واپسی پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے بیان میں عوام سے اپیل کی کہ وہ خوشیوں کا یہ تہوار ذمہ داری کے ساتھ منائیں اور حفاظتی ہدایات پر مکمل عمل کریں تاکہ بسنت سب کے لیے محفوظ رہے۔
انہوں نے اس موقع پر نواز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں سے یہ خوشگوار روایت ایک بار پھر زندہ ہوئی۔ پنجاب اور پاکستان میں خوشی اور سکون کی فضا بحال ہو رہی ہے۔ لاہور کی بسنت ایک بار پھر اس بات کی گواہ بنی کہ یہ شہر زندگی سے محبت کرنا جانتا ہے۔














