ایران کا طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ’خرمشہر فور‘ کا کامیاب تجربہ
ایران نے اپنے جدید ترین طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل خرمشہر فور کے کامیاب تجربے اور اسے پہلی بار زیرِ زمین تنصیب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی سرکاری اور ریاست سے منسلک میڈیا کے مطابق یہ تجربہ پاسدارانِ انقلاب کے فضائی و خلائی شعبے کی جانب سے کیا گیا۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق خرمشہر فور میزائل کی رینج 2 ہزار کلومیٹر ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ میزائل طویل فاصلے پر واقع اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ میزائل 1500 کلوگرام تک وزنی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ اس میزائل کو ایک زیرِ زمین تنصیب میں رکھا گیا ہے، جسے ایران کی جانب سے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران پاسدارانِ انقلاب کے خلائی کمانڈ کے تحت ایک نیا زیرِ زمین ’’میزائل سٹی‘‘ بھی قائم کر رہا ہے۔ یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور ایران اور امریکا کے درمیان عمان میں جوہری مذاکرات ہونے والے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اسرائیل کے ساتھ بارہ دن جاری رہنے والے تنازع کے بعد ملک کی عسکری حکمتِ عملی میں تبدیلی آئی ہے۔ تہران کے مطابق اب اس کی پالیسی صرف دفاع تک محدود نہیں رہی بلکہ ضرورت پڑنے پر پیشگی کارروائی کا اختیار بھی شامل کیا گیا ہے۔
مبصرین کے مطابق خرمشہر فور میزائل کو اسی حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جو جوابی کارروائی کے ساتھ ساتھ پہلے وار کی صلاحیت کو بھی مضبوط بناتا ہے۔
امریکا طویل عرصے سے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے، کیونکہ ایران کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو اسرائیل اور خلیج میں امریکی اڈوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس کا میزائل پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے۔
فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے باوجود ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ملک سفارتی عمل سے پیچھے نہیں ہٹ رہا۔ وزارت کے ترجمان اسماعیل بغائی نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ عمان میں ہونے والے مذاکرات میں سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران ایک منصفانہ اور باوقار معاہدہ چاہتا ہے جو صرف جوہری معاملے تک محدود ہو۔ ایرانی وفد کی قیادت وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں جو مذاکرات کے لیے عمان روانہ ہو چکے ہیں۔
دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی آپشنز کو مسترد نہیں کیا اور خطے میں امریکی افواج کی موجودگی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی بڑھی تو اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل سکتے ہیں۔













