بسنت کی تعطیلات کا آغاز، یورپی سفیر بھی لاہوری بن گئے
لاہور میں بسنت کا رنگ دن بدن گہرا ہوتا جا رہا ہے اور آج سے تعلیمی اداروں میں تعطیلات کے آغاز کے بعد شہریوں میں اس تہوار کا جوش مزید بڑھ گیا ہے۔
شہر بھر میں بسنت فیسٹیول کی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور پتنگوں، ڈور، ڈھول اور دیگر روایتی سامان کی خریداری کے لیے بازاروں میں خاصی گہماگہمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
لوگ گھروں کی چھتوں کی صفائی اور سجاوٹ میں مصروف ہیں جبکہ بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں میں بسنت منانے کا شوق نمایاں نظر آ رہا ہے۔
شہریوں کی بڑی تعداد بسنت کی تیاریوں میں سرگرم ہے اور بازاروں میں رش بڑھتا جا رہا ہے۔
موچی گیٹ اور دیگر قدیمی علاقوں میں پتنگ فروشوں کی دکانیں آباد ہیں اور ڈھول کی تھاپ نے بسنت کے ماحول کو مزید زندہ کر دیا ہے۔
اس موقع پر سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے موچی گیٹ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے دکانداروں اور بسنت کے لیے خریداری کرنے والے شہریوں سے ملاقات کی۔
انہوں نے ڈھول کی پرفارمنس بھی دیکھی اور بسنت کے حوالے سے عوامی جوش و خروش کو سراہا۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کے روایتی کھیلوں اور ثقافتی تہواروں کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔
ان کے مطابق بسنت کی بحالی پر میاں نواز شریف خوش ہیں اور ان کی ہدایت تھی کہ اس تہوار کو دوبارہ منایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی تفریح کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے اور بسنت صرف لاہور تک محدود نہیں رہے گی بلکہ گوجرانوالہ، فیصل آباد اور دیگر شہروں میں بھی منائی جائے گی۔
بسنت کے رنگ نے غیر ملکی مہمانوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کر لیا ہے۔
یورپی یونین کے سفیر ریمنڈس کاروبلس بھی بسنت کے ماحول سے متاثر نظر آئے اور انہوں نے موٹرسائیکل پر لاہور کی گلیوں کی سیر کی۔
انہوں نے اپنے سفر کا آغاز مال روڈ سے کیا اور اندرون دہلی گیٹ، مسجد وزیر خان اور گلی سورجن سنگھ سمیت مختلف تاریخی مقامات دیکھے۔
بعد ازاں وہ شاہی گزرگاہ سے ہوتے ہوئے رکشے کی سواری سے لطف اندوز ہوئے اور فورٹ روڈ فوڈ اسٹریٹ پر لاہوری کھانوں اور چائے کا ذائقہ بھی چکھا۔
لاہور میں بسنت کا تہوار ایک بار پھر زندگی اور رنگوں سے بھرپور نظر آ رہا ہے، جہاں مقامی شہریوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی مہمان بھی اس ثقافتی جشن سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔












