ایپسٹین فائلز: ٹرمپ کے اسرائیلی دباؤ میں ہونے کا انکشاف

ایف بی آئی رپورٹ میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے خلاف سنگین الزامات سامنے آئے ہیں
شائع 31 جنوری 2026 01:43pm

جیفری ایپسٹین سے متعلق تازہ ترین دستاویزات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے داماد جیرڈ کشنر کے خلاف سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ایف بی آئی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کشنر نے ٹرمپ کی صدارت کے دوران غیر معمولی اثر و رسوخ استعمال کیا اور روسی سرمایہ کاری، کرپشن اور اسرائیل کے ساتھ ممکنہ سمجھوتوں میں ملوث تھے۔

فیڈرل بیورو انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیرڈ کشنر نے ٹرمپ کی تنظیم اور صدارتی امور پر غیر متناسب اثر و رسوخ استعمال کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ کشنر کے خاندان کے تعلقات کرپشن، روسی سرمایہ کاری اور الٹرا زایونسٹ چاباد نیٹ ورک سے جڑے ہوئے تھے۔

رپورٹ میں کشنر کے خاندانی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی گئی، جس میں بتایا گیا کہ ان کے والد پر پہلے مالیاتی الزامات کی بنیاد پر سزا ہوئی تھی لیکن بعد میں صدر ٹرمپ نے انہیں معاف کر دیا تھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ کے داماد کشنر نے روسی سرمایہ کاری کے بڑے فنڈز منتقل کیے اور روس سے منسلک ریاستی اداروں سے تعلق رکھنے والے مفادات کی درست رپورٹنگ نہیں کی۔

ایف بی آئی رپورٹ میں ٹرمپ کے سابقہ رئیل اسٹیٹ معاہدات کا بھی حوالہ دیا گیا، بشمول بیورلی ہلز میں متنازعہ رہائش گاہ کی خرید و فروخت، جس میں ٹرمپ نے تقریباً 41 ملین ڈالر میں ایک پراپرٹی خریدی اور بعد میں اسے 95 ملین ڈالر میں غیر ملکی کمپنی شیل کو فروخت کیا۔

رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کو غیر معمولی اور خطرناک نشانوں کے طور پر نمایاں کیا ہے، جو شفافیت سے عاری مالیاتی لین دین کے ایک بڑے پیٹرن کے ضمن میں جانچ کے قابل ہیں۔

رپورٹ میں جیفری ایپسٹین کے وکیل ایلن ڈرشووٹز کا بھی نام لیا گیا۔ ایف بی آئی کے مطابق ایلن ڈرشووٹز اسرائیلی خفیہ ایجنسی ”موساد کے زیرِ اثر“ تھے اور انہوں نے موساد کے اہداف کے لیے امیر اور سیاسی طور پر جڑے طلباء کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں متاثر کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مرحوم جنسی مجرم ایپسٹین کو بھی وسیع سیاسی اور مالی نیٹ ورکس تک رسائی کی بنیاد پر اسی طرح استعمال کیے جانے کا شبہ تھا۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ایپسٹین کی تحقیقات سے متعلق تین ملین سے زائد صفحات، دو ہزار سے زائد ویڈیوز اور تقریباً 1 لاکھ 80 ہزار تصاویر پبلک کی گئی ہیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے کہا کہ یہ ریلیز مفصل داخلی جائزے کے بعد سامنے آئی۔

صدر ٹرمپ، جن کے ایپسٹین کے ساتھ 1990 اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں سماجی تعلقات تھے، کو ایپسٹین کے جرائم کے سلسلے میں کوئی سرکاری الزامات نہیں ہیں۔ ٹرمپ بار بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہیں ایپسٹین کی غیر قانونی سرگرمیوں کا علم نہیں تھا۔