سندھ طاس معاہدہ کیس میں پاکستان کی بڑی کامیابی، عالمی عدالت کا بھارت کو اہم حکم
عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کو پاکستانی دریاؤں پر قائم اپنے پن بجلی منصوبوں سے متعلق اہم آپریشنل ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے پر عالمی عدالت نے 13 صفحات پر مشتمل ایک پروسیجرل آرڈر جاری کیا ہے۔
عدالت کے حکم کے مطابق بھارت کو بگلیہار اور کشن گنگا ہائیڈرو پاور منصوبوں کے آپریشنل لاگ بکس، جنہیں پونڈیج لاگ بکس کہا جاتا ہے، 9 فروری 2026 تک جمع کرانا ہوں گے۔ اگر بھارت یہ ریکارڈ فراہم نہیں کرتا تو اسے باضابطہ طور پر عدالت کو اس کی وجہ بتانا ہوگی۔
دوسری جانب پاکستان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دو فروری 2026 تک واضح کرے کہ وہ کن مخصوص دستاویزات کا مطالبہ کر رہا ہے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کیس کے میرٹس کے دوسرے مرحلے کی سماعت دو اور تین فروری کو دی ہیگ میں ہوگی، اور یہ سماعت بھارت کی شرکت کے بغیر بھی ہو سکتی ہے۔
اس موقع پر اٹارنی جنرل کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد دی ہیگ روانہ ہوگا، جس میں پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر، بین الاقوامی قانونی ٹیم اور نیدرلینڈز میں پاکستان کے سفیر بھی شامل ہوں گے۔
پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے میں موجود پن بجلی سے متعلق شقوں کا غلط استعمال کر رہا ہے۔
پاکستان کے مطابق بھارت منصوبوں کی نصب شدہ صلاحیت اور متوقع بجلی کی طلب کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے تاکہ زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کا جواز بنایا جا سکے، جو پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
عالمی ثالثی عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ مانگے گئے آپریشنل ریکارڈ بظاہر کیس میں زیرِ غور معاملات سے براہ راست متعلق اور اہم ہیں، خاص طور پر اس بات کے تعین کے لیے کہ زیادہ سے زیادہ قابلِ اجازت پونڈیج کے حساب میں نصب شدہ صلاحیت اور متوقع لوڈ کو کس طرح شمار کیا جانا چاہیے۔
پاکستان نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنے معاہداتی حقوق کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے عبوری اقدامات کی درخواست بھی کر سکتا ہے، جن میں ایسے اقدامات کو روکنا شامل ہو سکتا ہے جو تنازع کو مزید سنگین بنائیں۔
تاہم عدالت نے اس مرحلے پر عبوری اقدامات پر کوئی فیصلہ نہیں دیا، البتہ یہ واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کی کوئی بھی رعایت صرف ثالثی عدالت ہی دے سکتی ہے، نیوٹرل ایکسپرٹ نہیں۔












