قائد اعظم اور علامہ اقبال پر ارطغرل طرز کی سیریز بنانے کے لیے ایک ارب روپے مختص
وفاقی حکومت نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور شاعر مشرق، مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کی زندگی پر ارطغرل طرز کی ڈرامہ سیریز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
بدھ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ثقافت و ورثہ کے اجلاس کے دوران ملک کے ثقافتی، تاریخی اور ورثہ جاتی منصوبوں سے متعلق اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
سیکرٹری قومی ورثہ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر قائداعظم اور علامہ اقبال کی زندگی پر ارطغرل طرز کی ڈرامہ سیریز بنانے کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے ہیں، جس کا مقصد قومی ہیروز کی زندگی کو نئی نسل کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرنا ہے۔
علامہ اقبال اکیڈمی کے ڈائریکٹر نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ علامہ اقبال کے نواسوں اور پوتوں کے انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیا جا چکا ہے، جو فروری کے آخر تک مکمل کر لیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی نے علامہ اقبال کے خاندان کے ساتھ ملاقات کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔
واضح رہے کہ ارطغرل ایک تاریخی اور اسلامی پس منظر پر مبنی مشہور ترک ٹی وی سیریز ہے، جو 13 ویں صدی کے عظیم مسلمان رہنما ارطغرل غازی کی جدوجہد، قربانی اور قیادت کو اجاگر کرتا ہے، جو سلطنتِ عثمانیہ کے بانی عثمان غازی کے والد تھے۔ یہ سیریز نہ صرف ترکی بلکہ پاکستان سمیت کئی ممالک میں بے حد مقبول ہوئی۔ ڈرامے نے نوجوان نسل کو اسلامی تاریخ سے روشناس کرانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
قائمہ کمیٹی اجلاس میں قائد اعظم اور علامہ اقبال پر ڈرامہ سیریز بنانے سمیت دیگر ورثہ جاتی منصوبے بھی زیر غور آئے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ثقافت اور ورثے کے حوالے سے سندھ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتیں خاصی فعال ہیں۔ اس سلسلے میں چھ فروری کو عالمی مجسمہ نمائش منعقد کی جا رہی ہے۔
قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ طلبہ کو پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے مسلسل بنیادوں پر مطالعاتی دورے کرائے جائیں تاکہ نوجوان نسل کو قومی ثقافت سے جوڑا جا سکے۔
اجلاس میں شکرپڑیاں کے قریب نئے قومی عجائب گھر کی تعمیر سے متعلق پیش رفت پر بھی غور کیا گیا۔ سیکریٹری قومی ورثہ نے بتایا کہ قومی عجائب گھر کی تعمیر کے لیے شکرپڑیاں کے قریب زمین حاصل کر لی گئی ہے تاہم فنڈز واپس لے لیے جانے کے باعث منصوبہ اگلے سال تک مؤخر ہو گیا ہے۔
ان کے مطابق اس وقت محکمے کے پاس صرف 19 کروڑ روپے دستیاب ہیں۔ اس صورت حال پر قائمہ کمیٹی نے قومی عجائب گھر کے فنڈز کے حصول کے لیے وزیراعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔
قومی ادارہ برائے فوک اور روایتی ورثہ، لوک ورثہ، کے ترمیمی بل 2025 پر بھی اجلاس میں غور کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ مصطفیٰ امپیکس کیس کے بعد ایکٹ میں ترامیم ضروری ہو گئی تھیں، جس کے تحت قواعد بنانے کی طاقت وزیراعظم کے بجائے لوک ورثہ کے بورڈ کو دی جا رہی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے قومی ادارہ برائے فوک اور روایتی ورثہ ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی۔
اجلاس میں ڈسکہ میں واقع گوردوارے کی بحالی سے متعلق متروکہ وقف املاک بورڈ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سکھ کمیونٹی کو گوردوارے تک آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کے پیش نظر گوردوارے کے گرد فینسنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ باؤنڈری وال اور گیٹ کی تنصیب دو ہفتوں میں مکمل کر لی جائے گی۔
چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ نے اجلاس کو بتایا کہ بورڈ شدید مالی بحران کا شکار ہے اور اس حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا جا چکا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ بورڈ کی کئی جائیدادوں پر لوگ انتہائی کم قیمت پر قابض ہیں جب کہ اسلام آباد کی صرف دو جائیدادوں سے بورڈ کا 90 فیصد ریونیو حاصل ہوتا ہے۔ حکام نے انکشاف کیا کہ ایف بی آر ایک دن میں بورڈ کے دو ارب روپے لے گیا، جسے ایک حساس معاملہ قرار دیا گیا۔
قائمہ کمیٹی نے اس معاملے کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے ایف بی آر حکام کو طلب کرنے اور آئندہ اجلاس میں ان کیمرہ بریفنگ لینے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹی اراکین کا کہنا تھا کہ قومی ورثہ اور مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے مالی مسائل کا حل ناگزیر ہے، تاکہ یہ ادارے مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔















