سندھ کے سیاحتی مقام گورکھ ہل میں 13 سال بعد برف باری

برف باری کے باعث یہاں کا درجہ حرارت منفی دو ڈگری سینٹی گریڈ تک گرگیا ہے۔
شائع 27 جنوری 2026 02:12pm
فائل فوٹو
فائل فوٹو

سندھ کے معروف سیاحتی مقام، گورکھ ہل اسٹیشن پرسردیوں کے موسم کی پہلی برف باری شروع ہوچکی ہے۔ یہ برف باری 13 سال بعد ہورہی ہے۔

کرتھار پہاڑی سلسلے میں دادو ضلع کے قریب، سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر واقع یہ مقام صوبے کا واحد بلند مقام ہے۔ گورکھ میں سردیوں کے دوران برفباری کبھی کبھار چند سالوں بعد ہی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ مقام اور بھی نایاب اور پرکشش سمجھا جاتا ہے۔

برفباری کے بعد گورکھ ہِل کا ماحول ایسا دلفریب اور دلکش ہو گیا ہے کہ فطرت کے دیوانے دور دراز سے کھنچے چلے آرہے ہیں۔

برف باری کے باعث یہاں کا درجہ حرارت منفی دو ڈگری سینٹی گریڈ تک گرگیا ہے۔

گورکھ ہل اسٹیشن کی بلندی 1734 میٹر ہے اور یہ سندھ و بلوچستان کی سرحد پر واقع ہے۔ یہ اسٹیشن ابھی ترقیاتی مراحل میں ہے، مگر قدرتی مناظر اور بلند و بالا پہاڑوں کے باعث یہ فطرت سے محبت رکھنے والوں کے لیے ایک منفرد ایڈونچر پوائنٹ ہے۔

اسٹیشن کے گرد 2,500 ایکڑ رقبہ پھیلا ہوا ہے، جو اسے سیاحتی لحاظ سے اہم بناتا ہے۔

کراچی سے تقریباً 423 کلومیٹر فاصلے پر واقع یہ مقام شہر کے سیاحوں کے لیے ایک پرکشش تفریحی مقام کے طور پر جانا جاتا ہے، جو یہاں کی خوبصورت اور پرسکون فضاؤں سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں۔