ایم کیو ایم وزرا اور اراکین سندھ اسمبلی کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی

سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت پر کی گئی تنقید ممکنہ طور پر اس اقدام کی وجہ ہو سکتی ہے: ایم کیو ایم
اپ ڈیٹ 27 جنوری 2026 10:33am

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے اہم وزرا اور سندھ اسمبلی کے اراکین کی پولیس سیکیورٹی اچانک واپس لیے جانے پر سیاسی اور حکومتی حلقوں میں تشویش کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔ جن شخصیات کی سیکیورٹی واپس لی گئی ہے ان میں وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی اور علی خورشیدی شامل ہیں۔

ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے سیکیورٹی واپس لینے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس اقدام کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔

پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کیا گیا، جس نے سیکیورٹی خدشات کو جنم دیا ہے۔

ایم کیو ایم رہنماؤں کا موقف ہے کہ حالیہ دنوں میں سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت پر کی گئی تنقید ممکنہ طور پر اس اقدام کی وجہ ہو سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔

پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر سیکیورٹی انتظامات میں تبدیلی کی گئی ہے تو اس کی وجوہات اور قانونی بنیاد واضح کی جانی چاہئیں۔

صورتحال پر اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان نے آج شام چار بجے ہنگامی پریس کانفرنس طلب کرلی ہے، جس میں سیکیورٹی واپس لینے کے فیصلے، ممکنہ خدشات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بات کیے جانے کا امکان ہے۔

دوسری جانب سرکاری سطح پر تاحال اس فیصلے کے بارے میں کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا