سندھ حکومت نے ایم کیو ایم رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس لینے کی تردید کردی
وزیر داخلہ سندھ شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم کی جانب سے سیکیورٹی واپس لیے جانے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم سیکیورٹی کے معاملے پر بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہی ہے، جبکہ حقیقت میں کسی سے سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کہا جا رہا ہے کہ ایم کیو ایم سے سیکیورٹی واپس لی گئی ہے، تاہم یہ دعویٰ حقائق کے برعکس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے سیکیورٹی کے معاملے پر مسلسل پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ نے سانحہ گل پلازا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے پر پوری دنیا اشکبار تھی اور ابھی لاشیں تک نہیں نکلی تھیں کہ پروپیگنڈا شروع کر دیا گیا۔
شرجیل میمن کے مطابق اس دوران یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ کراچی کو وفاق کے سپرد کر دیا جائے اور 18ویں ترمیم ختم کرنے کی باتیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کی جانب سے واضح کیا جا چکا ہے کہ ایم کیو ایم سے سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے وزرا اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں اور انہیں وہاں مکمل سیکیورٹی حاصل ہے۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ خالد مقبول صدیقی کے پاس 10 سیکیورٹی اہلکار موجود ہیں جبکہ تمام وفاقی وزرا کو بھی سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کے حوالے سے کیے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں اور یہ محض سیاسی پروپیگنڈا ہیں۔
ترجمان سندھ حکومت سمعیتہ افضال نے بھی ایم کیو ایم رہنماؤں اور وزرا سے سیکیورٹی واپس لیے جانے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم ایک بار پھر جھوٹے بیانیے اور منفی پروپیگنڈے کا سہارا لے رہی ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ترجمان سندھ حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے کسی وزیر یا رہنما سے سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے تمام افراد جو سیکیورٹی کے مجاز ہیں، انہیں مکمل سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔
سمعیتہ افضال کے مطابق سیکیورٹی کی فراہمی قانون اور طے شدہ سیکیورٹی پروٹوکول کے مطابق کی جاتی ہے اور اس میں کسی قسم کی امتیازی یا سیاسی بنیاد پر تبدیلی نہیں کی گئی۔
ترجمان سندھ حکومت نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے سیکیورٹی سے متعلق لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور منفی پروپیگنڈا کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت تمام منتخب نمائندوں اور متعلقہ شخصیات کو قانون کے مطابق تحفظ فراہم کرنے کی پابند ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کا جانبدارانہ رویہ اختیار نہیں کیا جا رہا۔
دوسری جانب ذرائع سے خبر سامنے آئی کہ کراچی میں ایم کیو ایم رہنماؤں اور منتخب نمائندوں کو سیکیورٹی دوبارہ فراہم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے سینئر رہنما خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال اور انیس قائمخانی کو سیکیورٹی واپس دے دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کا سیکیورٹی اسکواڈ بھی دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے، جبکہ ڈپٹی پارلیمانی لیڈر طحہ احمد کو بھی سیکیورٹی فراہم کر دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے اہم وزرا اور سندھ اسمبلی کے اراکین کی پولیس سیکیورٹی اچانک واپس لیے جانے پر پارٹی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ بتایا گیا تھا کہ جن شخصیات کی سیکیورٹی واپس لی گئی ان میں وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی اور علی خورشیدی شامل ہیں۔
ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے سیکیورٹی واپس لینے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اس اقدام کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔
پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کیا گیا، جس نے سیکیورٹی خدشات کو جنم دیا ہے۔
ایم کیو ایم رہنماؤں کا موقف تھا کہ حالیہ دنوں میں سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت پر کی گئی تنقید ممکنہ طور پر اس اقدام کی وجہ ہو سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔
پارٹی کا کہنا تھا کہ اگر سیکیورٹی انتظامات میں تبدیلی کی گئی تو اس کی وجوہات اور قانونی بنیاد واضح کی جانی چاہئیں۔
صورتحال پر اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان نے آج شام چار بجے ہنگامی پریس کانفرنس طلب کی ہے، جس میں سیکیورٹی واپس لینے کے فیصلے، ممکنہ خدشات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بات کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے کہا ہے کہ شہر میں پولیس کم ہے، ہوسکتا ہے اس وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے پولیس سیکیورٹی واپس لی گئی ہو۔
سعدیہ جاوید نے نجی ٹی وی وے گفتگو میں کہا تھا کہ میرے پاس کوئی سیکیورٹی نہیں ہے، سندھ کے حکومتی ایم پی ایز کے پاس بھی کوئی سیکیورٹی نہیں ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کی یقیناً کوئی وجوہات ہوں گی۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔