سانحہ گُل پلازہ: ملبے سے زیادہ تر ہڈیاں برآمد ہو رہی ہیں، سینئر فائر آفیسر
سینئر فائر آفیسر ظفر خان نے کہا کہ گل پلازہ کی عمارت کے ملبے سے زیادہ تر ہڈیاں برآمد ہو رہی ہیں، مکمل لاشیں کم ہی مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمارت کا اسٹرکچر شدید متاثر ہوگیا ہے اور اب صرف باقیات کی تلاش کا عمل رہ گیا ہے۔
گل پلازہ میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کو سات دن گزر جانے کے باوجود ریسکیو اینڈ سرچ آپریشن جاری ہے، سانحے میں اب تک 67 لاپتا افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ 77 افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش کا عمل بدستور جاری ہے۔
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق اب تک لاشوں اور جسم کے مختلف اعضا سے 45 ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں، جن میں سے 8 افراد کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے مکمل ہو چکی ہے۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ نے بتایا کہ سرچ آپریشن کا تقریباً 50 فیصد حصہ مکمل ہو چکا ہے اور اسی تناسب سے لاشیں بھی برآمد کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملبے کے انتہائی خطرناک اور کمزور اسٹرکچر کی وجہ سے سرچنگ انتہائی محتاط انداز میں جاری ہے۔
ریسکیو ٹیمیں اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں ملبے کے مختلف حصوں میں کام کر رہی ہیں تاکہ مزید لاپتہ افراد کو تلاش کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی وقت طلب ہے اور اس دوران حفاظتی اقدامات کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
گزشتہ رات گل پلازہ کی عمارت کے مختلف حصوں میں ایک بار پھر آگ بھڑکنے کے واقعات پیش آئے، تاہم فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور آگ کو مزید پھیلنے سے پہلے ہی قابو میں کر لیا گیا۔
کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے بتایا کہ لاشوں کی باقیات سوختہ ہیں، نمونہ لینے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ پولیس سرجن کے مطابق لاشوں اور انسانی باقیات کے مجموعی ڈی این اے سیمپلز کی تعداد 67 تک پہنچ چکی، اب تک نکالی جانے والی 67 لاشوں اور انسانی باقیات میں سے 62 کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا۔
دوسری جانب فائر فائٹر حکام کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کا سرچ آپریشن اسی فیصد مکمل ہوچکا ہے، تاہم ملبہ ہٹانے میں دو سے چار روز لگ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ جمعرات کے روز سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) اور پاکستان انجنیئرنگ کونسل نے آگ سے متاثرہ گُل پلازہ کو مخدوش قرار دے دیا تھا۔
جمعرات کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور پاکستان انجنیئرنگ کونسل نے گل پلازہ کا دورہ کیا تھا جس کے بعد تکنیکی کمیٹی نے گل پلازہ کو مخدوش قرار دیتے ہوئے سفارش کی تھی کہ گل پلازہ کو ریسکیو آپریشن کے بعد گرادیا جائے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کہنا تھا کہ گل پلازہ 8124 گز اور 1102 دکانوں پر مشتمل پلازہ ہے، گل پلازہ میں ہفتے کی شب آگ لگنے کے بعد پورا پلازہ جل گیا تھا۔














