دہشت گردی کی بڑی وجہ دہشت گردوں کو افغانستان سے واپس لانا تھا، وزیر اعظم

ریاست دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پُرعزم ہے،وزیراعظم
شائع 20 جنوری 2026 12:04pm

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی بڑی وجہ دہشت گردوں کو افغانستان سے واپس لانا تھا، افغانستان سے لوگوں کو لاکر بسانا فاش غلطی تھی۔

اسلام آباد میں وزیرِاعظم شہباز شریف نے قومی ورکشاپ میں شرکت کے موقع پر خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے داخلی سلامتی، دہشتگردی، قومی یکجہتی، علاقائی صورتحال اور ترقیاتی امور پر تفصیلی گفتگو کی۔

وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کو ملک کا ایک اہم اور اسٹریٹجک صوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کے پی نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور یہاں کے عوام نہایت غیور اور محبِ وطن ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا نے چار دہائیوں کے دوران تقریباً 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی، جو ایک بڑا انسانی اور قومی کردار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی سلامتی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور داخلی و خارجی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اے پی ایس پشاور کا دلخراش واقعہ آج بھی پوری قوم کے دلوں میں تازہ ہے اور ریاست نے اس سانحے کے بعد واضح پالیسی اپنائی کہ اچھے اور برے طالبان میں کوئی فرق نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سوات سے سیکڑوں دہشتگردوں کو کس نے رہا کیا اور وہ کون سی وجوہات تھیں جن کے باعث دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے لوگوں کو لا کر بسانا ایک فاش غلطی تھی اور دہشتگردی کی بڑی وجہ دہشتگردوں کو افغانستان سے واپس لانا ثابت ہوا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بھلائی کے جواب میں افغانستان کا رویہ تکلیف دہ رہا، جب کہ دشمنوں کے ساتھ آواز ملا کر پاکستان کے خلاف زہر اگلا جاتا رہا۔

انہوں نے زور دیا کہ خیبرپختونخوا میں پائیدار امن کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے اور خارجیوں کے مکمل خاتمے تک قوم چین سے نہیں بیٹھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف سب کو متحد ہو کر مقابلہ کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملکی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے ترقی کی اس دوڑ میں برابر شامل ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں اہم شاہراہوں کی تعمیر کے لیے وفاقی حکومت فنڈز فراہم کر رہی ہے، جبکہ بلوچستان کے زمینداروں کے لیے سولر پینلز کا پروگرام مکمل کیا جا چکا ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو پنجاب نے اپنے حصے سے 100 ارب روپے دیے، جب کہ صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مجموعی طور پر 400 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ان کی قربانیاں قابلِ فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال جنگ کے دوران بھارت کے سات طیارے مار گرائے گئے، فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کو عبرتناک شکست دی گئی اور دشمن کو ایسا سبق سکھایا گیا جو وہ تاقیامت یاد رکھے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج سبز پاسپورٹ کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور پاکستان معاشی طور پر مضبوط ہو رہا ہے۔

۔

افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے مزید کہا کہ افغان حکومتوں نے پاکستان کی میزبانی کی قدر نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سمجھانے پر افغان حکومت نہ مانی تو انہیں جواب دینا پڑا، کیونکہ افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین پر دہشتگردی روکنے میں ناکام رہی۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ ریاست دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پُرعزم ہے اور اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ افغانستان امن چاہتا ہے یا نہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف آپریشن ایک اجتماعی قومی فیصلہ تھا، جب کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو بھارت کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے عوام پر رحم کرے۔ آخر میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت عوامی فلاحی منصوبوں کے ذریعے ملک میں استحکام لانا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

terrorism

خیبر پختونخوا

students

workshop

PRIME MINISTER SHAHBAZ SHARIF