گُل پلازہ آتشزدگی: وزیراعلیٰ سندھ کا جاں بحق افراد کے ورثا کو ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان

اب تک 15 افراد کی لاشیں مل چکی ہیں جبکہ 65 افراد تاحال لاپتا ہیں، وزیراعلیٰ سندھ
شائع 19 جنوری 2026 02:52pm

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے جاں بحق افراد کے ورثا کے لیے فی خاندان ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کردیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق امدادی رقوم کی فراہمی کل سے شروع کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سانحے میں اب تک 15 افراد کی لاشیں مل چکی ہیں جبکہ 65 افراد تاحال لاپتا ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ گل پلازہ کے واقعے پر انتہائی افسوس ہے اور حکومت سندھ جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں، جن سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

مراد علی شاہ کے مطابق ریسکیو آپریشن میں 100 سے زائد فائر فائٹرز نے حصہ لیا، جبکہ آتشزدگی سے 80 کے قریب افراد متاثر ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ 22 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھروں کو روانہ کر دیا گیا ہے، جبکہ لاپتا افراد کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آتشزدگی کی وجوہات کا تاحال تعین نہیں ہو سکا، تاہم کمشنر کراچی کو نقصان کا تخمینہ لگانے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گُل پلازہ میں 1200 کے قریب دکانیں قائم ہیں اور آتشزدگی کے باعث عمارت کا تقریباً 40 فیصد حصہ منہدم ہو چکا ہے، جبکہ باقی حصہ بھی مخدوش قرار دیا گیا ہے۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ اب بھی تقریباً 10 فیصد آگ پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا، جبکہ متاثرہ دکانداروں کو متبادل جگہ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کی بحالی کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اگر واقعے میں تخریب کاری کے شواہد ملے تو سخت کارروائی کی جائے گی، تاہم انکوائری کا مقصد کسی پر الزام عائد کرنا نہیں بلکہ غلطیوں کا ازالہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلطیاں ضرور ہوئیں، مگر فوری طور پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ کس کی کوتاہی تھی۔

مراد علی شاہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ریسکیو اہلکاروں کو اپنا کام کرنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی کوتاہیوں کے ہم سب کسی نہ کسی حد تک ذمہ دار ہیں اور کسی کی نیت پر شک نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سال 2024 میں کراچی کی 135 عمارتوں کا فائر آڈٹ کیا گیا تھا اور کمشنر کراچی اس واقعے کی مکمل انکوائری کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی تباہ کن آگ 40 گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بجھائی نہیں جا سکی۔

ریسکیو اہلکار تیسرے روز بھی آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ عمارت کی تیسری منزل پر پیر کی صبح آگ دوبارہ بھڑک اٹھی جبکہ عمارت مخدوش ہونے کی وجہ سے ملبہ گرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

CM Sindh

press conference

CM Murad Ali Shah

Gul Plaza Fire

gul plaza incident