گرین لینڈ کے دفاع کا یورپی عزم: برطانیہ ایک، فن لینڈ اور ناروے دو دو فوجی بھیجنے پر تیار

یہ تعیناتی نیٹو کی مشق آپریشن آرکٹک اینڈیورنس کے تحت کی جا رہی ہے، جس کی قیادت ڈنمارک کر رہا ہے
شائع 19 جنوری 2026 09:54am

یورپی ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ کو حاصل کرنے سے متعلق بیانات کے بعد ڈنمارک کی خودمختاری کی حمایت کرتے ہوئے فوجی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ نے ایک فوجی افسر، نیدرلینڈز نے ایک، جبکہ فن لینڈ، ناروے اور سویڈن نے دو، دو فوجی اہلکار گرین لینڈ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام ایک مشترکہ یورپی مؤقف کے طور پر سامنے آیا ہے۔

یہ تعیناتی نیٹو کی مشق آپریشن آرکٹک اینڈیورنس کے تحت کی جا رہی ہے، جس کی قیادت ڈنمارک کر رہا ہے، تاہم اس میں امریکہ شامل نہیں۔

جرمنی، فرانس، برطانیہ، سویڈن، ناروے، فن لینڈ اور نیدرلینڈز اس مشق کا حصہ ہیں، جبکہ پولینڈ، اٹلی اور ترکیہ نے فوج بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔

ڈنمارک پہلے ہی گرین لینڈ میں تقریباً 150 فوجی تعینات کیے ہوئے ہے، جن میں ایلیٹ سیریئس ڈاگ سلیڈ پیٹرول بھی شامل ہے۔

فرانس نے 15 فوجی، جرمنی نے 13، ناروے، فن لینڈ اور نیدرلینڈز نے دو، دو جبکہ برطانیہ نے ایک افسر بھیجا ہے۔ اس طرح ڈنمارک کے علاوہ یورپی فوجیوں کی مجموعی تعداد تقریباً 37 بنتی ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ گرین لینڈ امریکی سلامتی کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے اور وہاں روسی و چینی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔

اسی تناظر میں امریکہ اور یورپ کے درمیان کشیدگی تجارتی محاذ پر بھی سامنے آئی، جب ٹرمپ نے یورپی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرتے ہوئے اسے جون سے 25 فیصد تک بڑھانے کی دھمکی دی تھی۔

یورپی حکام کے مطابق اس مشن کا مقصد گرین لینڈ کا براہِ راست دفاع نہیں بلکہ مستقبل میں بڑے فوجی اقدامات کی صلاحیت کا جائزہ لینا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق امریکہ کے بغیر نیٹو کی یورپی طاقتیں اب بھی مکمل دفاع کی صلاحیت سے محروم ہیں، تاہم محدود تعداد میں فوجیوں کی یہ تعیناتی یورپ کے دفاعی عزم کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی ممالک کو ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے بعد یورپی ممالک ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن اور برطانیہ نے صدر ٹرمپ کی ٹیرف کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈنمارک کی حکومت اور گرین لینڈ کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، ڈنمارک میں فوجی مشقیں کسی ملک کے لیے خطرہ نہیں۔

Denmark

یورپ

GREENLAND

U.S. President Donald Trump

Greenland Issue

army men