خامنہ ای پر حملہ ایران کے خلاف جنگ تصور کیا جائے گا: ایرانی صدر
ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ رہبر اعلیٰ آیت اللٰہ علی خامنہ ای پر کوئی بھی حملہ مکمل جنگ کا سبب بن جائے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کسی بھی ’ناانصافی پر مبنی جارحیت‘ کا سخت اور افسوسناک جواب دے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سپریم لیڈر پر حملہ دراصل ایران کے خلاف ہمہ گیر جنگ کے مترادف ہوگا۔
یہ ردعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد سامنے آیا، جنہوں نے مظاہرین کے خلاف کارروائیوں اور ممکنہ پھانسیوں پر ایران کو بارہا خبردار کیا ہے۔ ٹرمپ نے ہفتے کو پولیٹیکو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ’ایران میں نئی قیادت لانے کا وقت آ گیا ہے‘۔
ایرانی صدر نے معاشی بحران کا ذمہ دار بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے سے جاری پابندیاں اور دشمنی ایرانی عوام کی مشکلات کی بڑی وجہ ہیں۔
اگرچہ سخت بیانات کے باوجود ٹرمپ نے جمعے کو ایک پوسٹ میں ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا تھا اور کہا تھا کہ ایران نے 800 قیدیوں کی طے شدہ پھانسیاں روک دی ہیں۔ امریکا نے خطے میں فوجی نقل و حرکت بڑھائی ہے تاہم کسی واضح کارروائی کا اعلان نہیں کیا۔
اس کے ایک دن بعد خامنہ ای نے ٹرمپ کو’مجرم‘ قرار دیتے ہوئے ملک میں ’ہزاروں ہلاکتوں‘ کا اعتراف کیا اور الزام عائد کیا کہ بدامنی کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کی پشت پناہی حاصل گروہ ملوث ہیں۔
ایران میں مظاہرے گزشتہ ماہ تہران کے گرینڈ بازار سے معاشی مسائل کے خلاف شروع ہوئے جو جلد ہی حکومت مخالف تحریک میں بدل گئے اور ملک بھر میں پھیل گئے۔ مظاہرین نے کھل کر مذہبی حکمرانی کے خاتمے کے نعرے بھی لگائے۔
حکام نے احتجاج روکنے کے لیے انٹرنیٹ بند کیا، سیکیورٹی فورسز تعینات کیں اور سخت کریک ڈاؤن کیا، جس کے بعد مظاہروں میں کمی آئی مگر ہلاکتوں اور گرفتاریوں کی اطلاعات بدستور سامنے آ رہی ہیں۔
اتوار کو ایرانی عدلیہ نے عندیہ دیا کہ بدامنی سے جڑے مقدمات میں سزائے موت پر عمل دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔ عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر کے مطابق متعدد کارروائیوں کو ”محارب“ قرار دیا گیا ہے، جس کے تحت سزائے موت دی جا سکتی ہے۔
نیٹ بلاکس کے مطابق ہفتے کو جزوی طور پر بحال کیا گیا انٹرنیٹ دوبارہ معطل کر دیا گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ جھڑپیں شمال مغربی کرد علاقوں میں ہوئیں جہاں ماضی میں بھی بدامنی دیکھی گئی ہے۔














