صدر ٹرمپ کی وزیراعظم شہباز شریف کو ’غزہ پیس بورڈ‘ میں شمولیت کی دعوت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہبازشریف کو ’غزہ پیس بورڈ‘ میں شمولیت کی دعوت دے دی ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دعوت نامہ موصول ہوا ہے جس میں پاکستان کو ’غزہ پیس بورڈ‘ میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان مسئلہ فلسطین کے دیرپا حل کے لیے کوشاں ہے اور غزہ میں امن و سلامتی کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں مصروف رہے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مسئلہ فلسطین کا دیرپا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل کے ذریعے ممکن ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں غزہ کے معاملات کی نگرانی، سیکیورٹی اور بحالی کے لیے بین الاقوامی بورڈ کا اعلان کیا ہے جسے ’بورڈ آف پیس‘ کا نام دیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں بورڈ آف پیس کے مرکزی ارکان کے ناموں کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔
بورڈ کے ایگزیکٹیو ارکان میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، امریکی خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ اسٹیو وٹکوف، ارب پتی تاجر مارک رووان، عالمی بینک کے صدر اجے بنگا اور امریکی ڈپٹی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر رابرٹ گیبریل شامل ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر اور اپنے داماد جیرڈ کشنر کو بھی بورڈ آف پیس کے بانی ایگزیکٹیو ارکان کے طور پر نامزد کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اس بورڈ کا کام غزہ کے مستقبل کے لیے سیاسی حکمت عملی کی تشکیل، عالمی سطح پر فنڈز اکٹھا کرنا اور سیکیورٹی کے معاملات کی نگرانی کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کے سابق ایلچی نکولے ملاڈینوف کو غزہ کے لیے نمائندہ اعلیٰ مقرر کیا گیا ہے جو بورڈ اور ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے درمیان رابطے کا کام کریں گے۔
اکتوبر میں اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے درمیان صدر ٹرمپ کی ثالثی میں جنگ بندی معاہدے پر اتفاق ہوا تھا۔ جس میں طے پایا تھا کہ غزہ کی حکمرانی ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹک ادارے کے سپرد کی جائے گی، جس کی نگرانی ایک بین الاقوامی بورڈ آف پیس کرے گا اور یہ انتظام ایک عبوری مدت کے لیے ہوگا۔
دوسری جانب اسرائیل نے غزہ کے لیے امریکا کی جانب سے اعلان کردہ ایگزیکٹیو بورڈ کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسرائیلی پالیسی کے منافی قرار دیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے غزہ پیس بورڈ کا اعلان سے پہلے اسرائیل کے ساتھ مشاورت نہیں کی گئی۔ اسرائیل نے اس معاملے پر امریکا کو خدشات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جمعہ کو سامنے آنے والے اس بورڈ میں ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا نام بھی شامل ہے جبکہ اسرائیل ماضی میں غزہ کے معاملات میں ترک کردار کی بھی مخالفت کرتا رہا ہے۔













