’غزہ امن بورڈ‘ میں مارکو روبیو، جیرڈ کشنر اور ٹونی بلیئر شامل، فلسطینی نمائندگی غائب

غزہ کی نگرانی کے لیے امریکا کے اعلان کردہ بورڈ میں کوئی بھی فلسطینی شخصیت شامل نہیں ہے۔
اپ ڈیٹ 17 جنوری 2026 05:23pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کے بعد اس کی نگرانی، سیکیورٹی اور بحالی کے لیے بین الاقوامی بورڈ کا اعلان کیا ہے جسے ’بورڈ آف پیس‘ کا نام دیا گیا ہے، جس میں شامل تمام افراد غیر ملکی ہیں اور کسی بھی فلسطینی شخصیت کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ’بورڈ آف پیس‘ کے مرکزی ایگزیکٹیو ارکان کے ناموں کا اعلان کیا ہے جس میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، امریکی خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ اسٹیو وٹکوف، ارب پتی تاجر مارک رووان، عالمی بینک کے صدر اجے بنگا اور امریکی ڈپٹی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر رابرٹ گیبریل شامل ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر اور اپنے داماد جیرڈ کشنر کو بھی اس نام نہاد ’بورڈ آف پیس‘ کے بانی ایگزیکٹیو ارکان کے طور پر نامزد کیا ہے۔

اس بورڈ کا کام غزہ کے مستقبل کے لیے سیاسی حکمت عملی بنانا، عالمی سطح پر فنڈز اکٹھا کرنا اور سیکیورٹی کے بڑے معاملات کی نگرانی کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کے سابق ایلچی نکولے ملاڈینوف کو غزہ کے لیے نمائندہ اعلیٰ مقرر کیا گیا ہے جو بورڈ اور ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے درمیان رابطے کا کام کریں گے۔

بورڈ آف پیس کے علاوہ ایک الگ ’غزہ ایگزیکٹو بورڈ‘ بھی تشکیل دیا گیا ہے جس میں ترکیہ، قطر، مصر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ یا انٹیلی جنس سربراہان کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ ’بورڈ آف پیس‘ اور غزہ کی مقامی انتظامیہ کے درمیان پُل کی حییت سے کام کرے گا۔

غزہ ایگزیکٹیو بورڈ میں ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان، قطری سفارتکار علی الثوادی، مصری انٹیلی جنس کے سربراہ جنرل حسن رشاد، اماراتی وزیر ریم الہاشمی، اقوامِ متحدہ کی کوآرڈینیٹر سگریڈ کاگ، اسرائیلی نژاد رئیل اسٹیٹ ٹائیکون یاکر گابے شامل ہیں۔ ان کے علاوہ اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور ٹونی بلیئر اس بورڈ کا بھی حصہ ہیں۔

اکتوبر میں اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے ٹرمپ کے منصوبے پر اتفاق کیا تھا۔ اس منصوبے میں طے پایا تھا کہ غزہ کی حکمرانی ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹک ادارے کے سپرد کی جائے گی، جس کی نگرانی ایک بین الاقوامی بورڈ آف پیس کرے گا اور یہ انتظام ایک عبوری مدت کے لیے ہوگا۔

وائٹ ہاؤس نے تاحال بورڈ آف پیس کے اعلان کردہ ارکان کی ذمہ داریوں کی جامع تفصیلات جاری نہیں کیں مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ فلسطینی علاقے کی نگرانی کے لیے قائم بورڈ میں کسی فلسطینی شخصیت کو نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنان نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی غیر ملکی علاقے کے انتظام کی نگرانی کے لیے صدر ٹرمپ کی سربراہی میں بورڈ قائم کرنا نوآبادیاتی ڈھانچے سے مشابہت رکھتا ہے۔

اسی طرح ٹونی بلیئر کی شمولیت پر بھی اعتراضات سامنے آرہے ہیں جن پر عراق جنگ میں ان کے کردار اور مشرق وسطیٰ میں برطانوی سامراجی تاریخ کے باعث تنقید کی جاتی ہے۔

امریکا کے اس منصوبے کے تحت غزہ کی حکمرانی ٹیکنوکریٹ کمیٹی (این سی اے جی) کے سپرد کی گئی ہے جو 15 ارکان پر مشتمل ہوگی اور اس کی سربراہی ڈاکٹر علی شعث کریں گے جن کا تعلق غزہ سے ہے اور وہ اس سے قبل فلسطینی اتھارٹی میں اہم عہدوں پر ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق اس کمیٹی کی بنیادی ذمہ داریوں میں غزہ میں روزمرہ کے انتظامی معاملات کی دیکھ بھال، بنیادی عوامی خدمات اور تعمیرِ نو کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔

Donald Trump

Gaza

white house

Marco Rubio

Steve Witkoff

tony blair

Gaza board

Jared Kushner

Board of Peace