حملہ ہوا تو خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے: ایران کا انتباہ

سفارتی ذرائع کے مطابق قطر میں واقع اہم امریکی فضائی اڈے سے بعض اہلکاروں کو انخلا کا مشورہ دیا گیا ہے۔
اپ ڈیٹ 14 جنوری 2026 06:24pm

ایران نے امریکا کو واضح انتباہ دیتے ہوئے ہمسایہ ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران میں مداخلت کی تو خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے جائیں گے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ایران نے خطے کے ان ممالک کو، جہاں امریکی افواج موجود ہیں، خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران میں جاری حکومت مخالف احتجاجی تحریک میں مداخلت کی تو امریکی فوجی اڈوں کے خلاف جوابی کارروائی کی جائے گی۔

ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بدھ کے روز برطانوی خبر رساں ادارے (رائٹرز) کو بتایا کہ تہران نے واضح پیغام دیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

الجزیرہ کے مطابق ایران نے امریکا کی ممکنہ حملے کی دھمکیوں کے پیشِ نظر اپنی فوج کو ہائی الرٹ رکھا ہوا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن اس بحران کو فوجی مداخلت کا جواز بنانے کے لیے استعمال کر رہا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

تین سفارتی ذرائع کے مطابق خطے میں واقع سب سے بڑے امریکی فضائی اڈے، قطر کے العدید ایئر بیس سے بعض اہلکاروں کو بدھ کی شام تک روانہ ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے، تاہم کسی بڑے پیمانے پر فوجی انخلا کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ ایک سفارتکار نے اس اقدام کو ’’پوسچر میں تبدیلی‘‘ قرار دیا، نہ کہ باضابطہ انخلا۔

دوسری جانب بھارتی وزارتِ خارجہ نے ایران میں جاری احتجاجی کشیدگی اور ممکنہ امریکی مداخلت کے پیشِ نظر اپنے شہریوں کے لیے ہدایت جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ جو بھی بھارتی شہری اس وقت ایران میں موجود ہیں وہ دستیاب ٹرانسپورٹ کے ذریعے جلد از جلد ایران چھوڑ دیں۔

بھارتی میڈیا ٹائم آف انڈیا کے مطابق وزارت نے بھارتی شہریوں کو ایران میں موجود سفارت خانے سے مسلسل رابطے میں رہنے اور مقامی حالات پر نظر رکھنے کی بھی تاکید کی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران میں مظاہرین کی حمایت میں مداخلت کی دھمکیاں دی ہے اور حکومت مخالف مظاہرین کو امریکا کی جانب سے جلد مدد پہنچنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق ایران میں حالیہ کریک ڈاؤن میں اب تک 2,600 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ یہ احتجاجی تحریک ملک کی قیادت کے خلاف حالیہ برسوں کی سب سے بڑی تحریک سمجھی جا رہی ہے۔

رائٹرز کے مطابق اسرائیل کا دعوٰی ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران میں مداخلت کا فیصلہ کر لیا ہے، تاہم اس اقدام کی نوعیت اور وقت کے بارے میں ابھی واضح معلومات نہیں ہیں۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ان کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی سیکیورٹی کابینہ کو ایران میں ممکنہ نظامی تبدیلی یا امریکی مداخلت کے امکانات پر بریفنگ دی گئی ہے۔

دوسری طرف ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ تہران نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکی سمیت خطے کے ممالک سے کہا ہے کہ وہ واشنگٹن کو ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی سے روکیں۔ ان کے مطابق اگر امریکا نے ایران کو نشانہ بنایا تو ان ممالک میں قائم امریکی اڈے بھی حملوں کی زد میں آئیں گے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدارعلی لاریجانی نے قطری وزیر خارجہ سے بات کی، جب کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امارات اور ترکی کے اپنے ہم منصبوں سے رابطہ کیا ہے۔

ایران کے اندر اطلاعات کی ترسیل انٹرنیٹ بندش کے باعث محدود ہے جب کہ جزوی طور پر شہریوں کو بیرون ملک کالز کی اجازت دی گئی ہے۔

امریکا میں قائم انسانی حقوق کے گروپ ہرانا کے دعوے کے مطابق اب تک 18 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جب کہ 2,403 مظاہرین اور 147 سرکاری اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

ایرانی چیف جسٹس نے گرفتار مظاہرین کے خلاف تیز رفتار عدالتی کارروائی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دینا ضروری ہیں۔ دوسری جانب ایک کرد انسانی حقوق تنظیم کے مطابق ایک 26 سالہ نوجوان کو بدھ کے روز پھانسی دیے جانے کا خدشہ ہے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

خیال رہے کہ ایران میں پیر کے روز حکومت کے حق میں ریلیاں بھی نکالی گئیں، جس میں ہزاروں کی تعداد میں مرد اور خواتین سڑکوں پر نکلے۔ مبصرین کے مطابق ایران میں مہنگائی کے خلاف موجودہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران گزشتہ سال کی جنگ کے اثرات اور خطے میں اپنے اتحادیوں کی کمزوری کا سامنا کر رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ

GEO POLITICS

US BASES

Amrica

Iran Protests

U.S. President Donald Trump

Iran Crisis

US Base in Qatar

Gulf Region

Regional Tensions

US Intervention