ایران سے تجارت پر ٹرمپ کا 25 فیصد ٹیرف: پاکستان سے زیادہ بھارت کو نقصان
امریکا کی جانب سے 25 فیصد ٹیرف کا اعلان کرنے کے بعد ایران سے تجارت کرنے والے ممالک کو معاشی خدشات لاحق ہوگئے ہیں۔ اس نئے ٹیرف کا اثر پاکستان اور بھارت کے مفادات پر بھی مختلف طریقوں سے ہوگا، کیونکہ ایران کے ساتھ دونوں کی تجارت کا حجم، نوعیت اور راستہ الگ ہے۔
سرکاری طور پر پاکستان کی ایران سے تجارت کا حجم غیر واضح ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات غیر رسمی ہیں اور ان کی تجارت 2 ارب ڈالر تک ہونے کا تخمینہ ہے۔ اسی طرح بھارت کا ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارتی حجم تقریباً 1.68 ارب ڈالر تک ہے۔
ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے ٹیرف کا پاکستان پر اثر جزوی اور کم ہے، جبکہ بھارت کی ایران سے تجارت، خطّے میں رسائی اور اقتصادی مفادات پر گہرے اور ممکنہ طور پر طویل المدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستان اور ایران کے درمیان زیادہ تر تجارت زمینی راستوں کے ذریعے غیر رسمی انداز میں ہوتی ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ تجارت سرکاری ریکارڈ میں مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوتی، کیونکہ کئی بار سامان کی دستاویزات میں ایران کے بجائے وسطی ایشیائی ممالک کا ذکر کیا جاتا ہے اور لین دین اکثر پاکستانی روپے میں ہوتا ہے۔
پاکستان سے ایران چاول، گوشت، کینو، کپڑا اور ایران سے کیمیکل، پلاسٹک دانہ، ایل پی جی اور بڑی مقدار میں پٹرول اور ڈیزل آتا ہے۔ چونکہ یہ تجارت اکثر غیر رسمی ہے، تو 25 فیصد ٹیرف کا پاکستان پر براہِ راست اثر کم ہوگا۔
اس کے برعکس، بھارت کے لیے ایران کی تجارت زیادہ رسمی اور حجم میں نمایاں ہے۔
بھارت ایران کو کیمیکل، معدنی ایندھن، پھل اور دیگر تجارتی اشیاء برآمد کرتا ہے، بھارت کا ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارتی حجم پچھلے چند سالوں میں 17.03 ارب ڈالر سے گھٹ کر 1.68 ارب ڈالر تک آ چکا ہے۔
بھارت کے لیے ایران کا جغرافیائی اور سٹریٹجک محل وقوع بھی اہم ہے۔ چابہار بندرگاہ اور انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور کے ذریعے بھارت افغانستان، وسطی ایشیا اور روس کے ساتھ تجارت کرتا ہے۔
اگر بھارت ایران کے ساتھ کاروبار روکنے پر مجبور ہو جاتا ہے، تو اس کے صرف 1.68 ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت نہیں بلکہ اس کی خطّے میں لاجسٹک رسائی، روس اور یورپی ممالک کے ساتھ تجارتی روابط اور تجارتی راستے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
ایران پر دباؤ ڈالنے سے بھارت کے علاقائی مفادات بھی خطرے میں آ سکتے ہیں، کیونکہ ایران متبادل طور پر چین کے ساتھ قریب ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، چین، ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور ایران کے کُل تیل کی تقریباً 80 فیصد خریداری کرتا ہے۔
ٹرمپ کے 25 فیصد ٹیرف سے چین پر براہِ راست اثر نہیں پڑتا کیونکہ چین پہلے سے ایران کے ساتھ وسیع تجارتی معاہدوں میں مصروف ہے اور پابندیوں کی وجہ سے تجارت اکثر غیر رسمی طریقے سے ہوتی رہی ہے۔
تاہم اگر امریکی دباؤ بڑھا تو چین کو بھی اپنے مالی اور تجارتی نظام میں ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑے گی۔
ترکیہ، ایران کا دوسرا بڑا شراکت دار ہے، جس کی حجم تقریباً 5.7 ارب ڈالر ہے۔ ترکیہ پر پہلے سے اسٹیل اور ایلومینیم پر ٹیرف عائد ہیں، اور نئے 25 فیصد ٹیرف سے اس کے برآمدات پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
عراق، متحدہ عرب امارات، روس اور وسطی ایشیائی ممالک بھی ایران کی اہم تجارتی شراکت دار ہیں۔
ان ممالک پر براہِ راست 25 فیصد ٹیرف کا اثر کم ہے، لیکن ایران کی معیشت میں تنزلی کی وجہ سے تجارت کے راستے اور لاجسٹک سہولیات متاثر ہو سکتی ہیں، جس سے ان ممالک کی ایران سے درآمدات اور ایرانی مصنوعات کی ترسیل سست ہو سکتی ہے۔















