ٹرمپ کے خصوصی نمائندے کی شاہِ ایران کے بیٹے سے خفیہ ملاقات

رضا پہلوی، جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ملک چھوڑ کر امریکا میں جلاوطنی کی ذندگی گزار رہے ہیں، ایران میں اپوزیشن کے ایک دھڑے کی قیادت کر رہے ہیں۔
اپ ڈیٹ 14 جنوری 2026 12:45pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے حال ہی میں خفیہ ملاقات کی ہے، جس میں ایران کے جلاوطن سابق ولی عہد رضا پہلوی سے ایران میں جاری مظاہروں پر بات چیت ہوئی۔

امریکی خبر رساں ادارے ’ایکسیوز‘ کے مطابق، یہ ملاقات ان مظاہروں کے آغاز کے پندرہ دن بعد امریکی انتظامیہ اور ایرانی اپوزیشن کے درمیان ہونے والی پہلی اعلیٰ سطح کی ملاقات تھی۔ رضا پہلوی یہ کوشش کر رہے ہیں کہ اگر ایران میں موجودہ نظام گرا تو وہ عبوری قیادت کے طور پر سامنے آئیں۔

رضا پہلوی، جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ملک چھوڑ کر امریکا میں جلاوطنی کی ذندگی گزار رہے ہیں، ایران میں اپوزیشن کے ایک دھڑے کی قیادت کر رہے ہیں۔

رضا پہلوی گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکی ٹی وی چینلز پر نمودار ہوئے اور ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ مظاہرین کی حمایت میں مداخلت کی جائے۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے حالیہ دنوں میں بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی میٹنگز میں کہا کہ اس وقت انتظامیہ غیر فوجی اقدامات پر غور کر رہی ہے تاکہ مظاہرین کی مدد کی جا سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل نے امریکا کو اطلاع دی ہے کہ ایران میں جاری احتجاج کے دوران کم از کم پانچ ہزار مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔

ابتدائی طور پر، ٹرمپ انتظامیہ رضا پہلوی کو سیاسی اعتبار سے اہم شخصیت نہیں سمجھتی تھی، پچھلے ہفتے ایک انٹرویو میں صدر نے انہیں واضح طور پر سپورٹ بھی نہیں کیا۔

لیکن سینئر امریکی اہلکار نے بتایا کہ احتجاجات کے دوران مظاہرین نے پہلوی کے نام کے نعرے لگائے۔ امریکی اہلکار کے مطابق، یہ ایک طرح سے عوامی سطح پر ان کی مقبولیت کا اشارہ تھا۔

Donald Trump

Iran

Iran Protest

President Donald Trump

Iran US talks

Steve Witkoff

iran inflation

Iran Unrest

Iran Protests

U.S. President Donald Trump

Iran Crisis

Iran Revolution

Iranian government

Iran Economic Crisis

Reza Pahalvi