ایران گرفتار مظاہرین کو پھانسی دیتا ہے تو بہت سخت کارروائی کریں گے: ٹرمپ

'موجودہ حالات میں ایران چھوڑ دینا برا خیال نہیں ہوگا': ٹرمپ کا امریکی شہریوں کو مشورہ
شائع 14 جنوری 2026 08:38am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری احتجاج اور مظاہرین کو ممکنہ سزاؤں کے حوالے سے سخت بیان دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی حکام گرفتار مظاہرین کو پھانسی دیتے ہیں تو امریکا کی جانب سے سخت کارروائی کی جائے گی۔ صدر ٹرمپ نے ساتھ ہی امریکی شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کا مشورہ بھی دیا ہے اور کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران چھوڑ دینا برا خیال نہیں ہوگا کیونکہ وہاں کی صورتِحال انتہائی خراب ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ایران میں مبینہ قتل عام کی اطلاعات ہیں اور وہ جلد ہی ہلاکتوں کی درست تعداد معلوم کر لیں گے۔

ان کے مطابق ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر امریکا گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور انسانی جانوں کے ضیاع کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں ایرانی عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے اور اداروں کا کنٹرول سنبھالنے کی اپیل کی۔

انہوں نے کہا کہ محب وطن ایرانیوں کو اپنے حقوق کے لیے کھڑا رہنا چاہیے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا کہ عوام پر ظلم کرنے والوں کے نام یاد رکھے جائیں گے اور انہیں اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔

اسی دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انہوں نے ایرانی عہدیداروں سے تمام طے شدہ ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک ایران میں قتل و غارت نہیں رکے گی، وہ کسی قسم کی میٹنگ نہیں کریں گے۔

انہوں نے ایک بار پھر ایران میں امریکی مداخلت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ مدد راستے میں ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے معروف انتخابی نعرے میں تبدیلی کرتے ہوئے ”میک امریکا گریٹ اگین“ کی طرز پر ”میک ایران گریٹ اگین“ کا نعرہ بھی استعمال کیا۔

اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ ایران میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کی حمایت کے حوالے سے بیانات دے چکے ہیں۔

اتوار کی شب ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور ایرانی قیادت نے خود رابطہ کر کے بات چیت کی خواہش ظاہر کی ہے۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگرچہ ملاقات کی تیاری کی جا رہی ہے، لیکن حالات کے پیش نظر کسی کارروائی کا امکان بھی موجود ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے بھی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے، مگر ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر کسی قسم کا حملہ کیا گیا تو اس کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔

ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ ملک کی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا آغاز گزشتہ ماہ کے آخر میں دارالحکومت تہران سے ہوا تھا، جو بعد ازاں دیگر شہروں تک پھیل گئے۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہ مظاہرے پُرتشدد شکل اختیار کر گئے۔ ایرانی حکام ان مظاہروں اور بدامنی کا الزام امریکا اور اسرائیل پر عائد کرتے ہیں۔

ان حالات کے ردعمل میں پیر کے روز ایران کے مختلف شہروں میں بڑی تعداد میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور مبینہ غیر ملکی حمایت یافتہ مظاہروں اور دہشت گردی کے خلاف ریلیاں نکالیں۔

ان ریلیوں میں حکومت کے حق میں اور امریکا مخالف نعرے لگائے گئے، جبکہ مظاہرین نے کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف ملکی قیادت

Donald Trump

Iran

Iran Protest

President Donald Trump

Iran US talks

iran inflation

Iran Unrest

Iran Protests

U.S. President Donald Trump

Iran Crisis

Iran Revolution

US Preparing to Attack Iran

Iranian government

Iran Support

Iran Proxies

Iran Economic Crisis