پاکستان نے ایران جانے والوں کے لیے ٹریول ایڈوائزری جاری کردی

ایران میں موجود پاکستانی شہریوں کو محتاط رہنے اور نقل و حرکت محدود رکھنے کا مشورہ
اپ ڈیٹ 10 جنوری 2026 01:09pm

حکومت پاکستان نے ایران میں موجودہ صورتِحال کے پیش نظر اپنے شہریوں کے لیے ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی ہے، جس میں ایران کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایران میں موجود پاکستانیوں کو انتہائی احتیاط برتنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی شہری موجودہ حالات کے باعث ایران کے غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں اور صورتحال معمول پر آنے تک سفر مؤخر کر دیں۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ جو پاکستانی شہری پہلے سے ایران میں موجود ہیں وہ انتہائی احتیاط سے کام لیں اور اپنی نقل و حرکت محدود رکھیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق ایران میں مقیم پاکستانی شہری کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پاکستانی سفارتی عملے سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ایران میں موجودہ حالات کے باعث پاکستانی سفارت خانے نے شہریوں کی سہولت کے لیے کرائسس مینجمنٹ یونٹ بھی قائم کر دیا ہے۔

تہران میں سفیرِ پاکستان مدثر ٹیپو کے مطابق پاکستانی شہریوں کی معاونت کے لیے چوبیس گھنٹے رابطہ ممکن ہے اور اس مقصد کے لیے متعلقہ عہدیداروں کے رابطہ نمبرز اور لینڈ لائن نمبرز بھی فراہم کر دیے گئے ہیں تاکہ ہنگامی صورت میں فوری مدد کی جا سکے۔

واضح رہے کہ ایران میں جاری پرتشدد مظاہروں نے شدت اختیار کر لی ہے اور امریکی میڈیا کے مطابق ان واقعات کے دوران ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 217 ہو گئی ہے۔

مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج کے دوران سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جن میں 26 بینک، 25 مساجد اور درجنوں فائر ٹرک شامل ہیں۔

بعض علاقوں میں پولیس اسٹیشنز پر حملے بھی کیے گئے، جس کے نتیجے میں کئی اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے تقریباً ڈھائی ہزار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس ایک بار پھر معطل کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب ایران میں موجودہ حالات کے باعث پاکستانی سفارت خانے نے شہریوں کی سہولت کے لیے کرائسس مینجمنٹ یونٹ قائم کر دیا ہے۔

تہران میں سفیرِ پاکستان مدثر ٹیپو کے مطابق پاکستانی شہریوں کی معاونت کے لیے چوبیس گھنٹے رابطہ ممکن ہے اور اس مقصد کے لیے متعلقہ عہدیداروں کے رابطہ نمبرز اور لینڈ لائن نمبرز بھی فراہم کر دیے گئے ہیں تاکہ ہنگامی صورت میں فوری مدد کی جا سکے۔

Iran

Iran Protest

PAKISTAN GOVERNMENT

travel advisory

iran inflation

Iran Crisis

Iran Revolution