ایکس کا بڑی میوزک کمپنیوں پر مقدمہ، سازباز اور دباؤ کا الزام
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے مالک ایلون مسک کی کمپنی نے امریکا کی بڑی میوزک کمپنیوں کے خلاف ایک بڑا قانونی محاذ کھول دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ میوزک انڈسٹری کے طاقتور اداروں نے مل کر ایکس پر دباؤ ڈالا اور اسے مہنگے میوزک لائسنس خریدنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔
ایکس نے ٹیکساس کی وفاقی عدالت میں دائر مقدمے میں سونی میوزک، یونیورسل میوزک، وارنر چیپل اور نیشنل میوزک پبلشرز ایسوسی ایشن کو نامزد کیا ہے۔ ایکس کے مطابق یہ ادارے الگ الگ معاہدے کرنے کے بجائے ایک ساتھ فیصلہ کرتے رہے، جس سے ایکس کو مناسب اور سستے لائسنس حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا۔
ایکس کے مطابق، میوزک پبلشرز کی نمائندگی کرنے والی تنظیم کے ذریعے ایسے ناشرین ایک صف میں کھڑے ہو گئے جو امریکی کاپی رائٹڈ میوزک کے 90 فیصد سے زائد حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ اس اجتماعی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے ایکس پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ انڈسٹری وائڈ معاہدے قبول کرے، جو مصنوعی طور پر مہنگے اور غیر منصفانہ ہیں۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ یہ میوزک پبلشرز امریکا کے زیادہ تر کاپی رائٹ شدہ گانوں کے مالک ہیں اور اسی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے ایکس پر دباؤ بڑھایا۔ اس دباؤ کا ایک طریقہ یہ تھا کہ ہر ہفتے بڑی تعداد میں کاپی رائٹ شکایات بھیجی گئیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں پوسٹس ہٹانی پڑیں اور پچاس ہزار سے زیادہ صارفین کے اکاؤنٹس بند کر دیے گئے۔
ایکس کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے پلیٹ فارم کے صارفین کم ہوئے اور اشتہارات سے ہونے والی آمدن کو نقصان پہنچا۔ اسی وجہ سے کمپنی عدالت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ میوزک لائسنسنگ کا نظام منصفانہ بنایا جائے اور اسے ہونے والے مالی نقصان کا ازالہ کیا جائے۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ پچھلے سال انہی میوزک کمپنیوں نے ایکس پر بغیر اجازت گانے شیئر کرنے کا الزام لگا کر کروڑوں ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کا بڑا حصہ عدالت نے مسترد کر دیا تھا۔ اب ایکس کا کہنا ہے کہ کچھ میوزک پبلشرز الگ الگ بات چیت پر آمادہ ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ اجتماعی دباؤ کا ہے، نہ کہ معاہدہ کرنے سے انکار کا۔
یہ مقدمہ عام صارفین کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کے فیصلے سے مستقبل میں سوشل میڈیا پر میوزک کے استعمال کے اصول اور کمپنیوں کے اختیارات متاثر ہو سکتے ہیں۔
















