”غلطی کی تو فیصلہ کن جواب ہوگا“: ایران کی امریکا کو کھلی دھمکی
ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جارحانہ بیانات کو خاموشی سے نہیں دیکھا جائے گا اور مسلح افواج کسی بھی غلط اقدام کا سخت جواب دیں گی۔
ایسوسی ایٹیڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے بدھ کے روز خبردار کیا کہ اسلامی جمہوریہ اپنے خلاف جارحانہ بیانات کو خطرہ سمجھتا ہے اور اس کا کوئی جواب نہیں چھوڑے گا۔
ایران کے فوجی سربراہ کا اشارہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کی طرف تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر تہران پرامن مظاہرین کے خلاف کارروائی کرے گا تو امریکا مداخلت کرے گا۔
امیر حاتمی نے فوجی اکیڈمی کے طلبہ سے خطاب میں کہا کہ میں اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آج ایران کی مسلح افواج کی تیاری پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر دشمن سے کوئی غلطی ہوگی تو اسے فیصلہ کن جواب دیا جائے گا اور کسی بھی جارح کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ ایران کی حکومت اس وقت اسرائیل اور امریکا سے متوقع خطرات اور ملکی اقتصادی بحران کے باعث ہونے والے مظاہروں کا سامنا کر رہی ہے، جو ملک کی مذہبی قیادت کے لیے ایک براہ راست چیلنج بن چکے ہیں۔
ادھر حکومت نے بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے شہریوں کو ماہانہ سات ڈالر کے مساوی سبسڈی دینے کا آغاز کیا ہے، جس سے 71 ملین افراد مستفید ہوں گے۔
تاہم ایرانی ریال کی قدر میں مسلسل کمی کے سبب بنیادی اشیاء جیسے کھانے کے تیل، گوشت اور پنیر کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس سے عوام پر مزید بوجھ پڑ رہا ہے۔
ایران کے نائب صدر محمد جعفر قائم پناہ نے کہا کہ ملک ایک مکمل اقتصادی جنگ کا سامنا کر رہا ہے اور داخلی کرپشن اور رینٹیئر پالیسیوں کو ختم کرنے کے لیے فوری اقتصادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں مظاہرے 28 دسمبر سے جاری ہیں اور ملک کے 31 صوبوں میں سے 27 میں 280 مقامات پر پھیل چکے ہیں۔
امریکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اب تک 36 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 30 مظاہرین، 4 بچے اور 2 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔















