مڈٹرم الیکشن نہ جیتے تو میرا مواخذہ ہوگا: ٹرمپ کا ریپبلکنز کو انتباہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن ارکان کو خبردار کیا ہے کہ اگر 2026 کے مڈٹرم انتخابات میں ان کی پارٹی کامیاب نہ ہوئی تو ڈیموکریٹس ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ مڈٹرم انتخابات ان کی حکومت اور پالیسیوں کے لیے فیصلہ کن ہوں گے، اس لیے ریپبلکنز کو متحد ہو کر انتخابی میدان میں اترنا ہوگا۔
برطانوی خبر رساں ادارے(رائٹرز) کے مطابق صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایوانِ نمائندگان کے ریپبلکن ارکان کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زوردیا ہے کہ آپ کو مڈٹرم انتخابات جیتنا ہوں گے، کیونکہ اگر ہم یہ انتخابات نہ جیتے تو وہ (ڈیموکریٹس) مجھے مواخذے کا نشانہ بنانے کی کوئی نہ کوئی وجہ تلاش کر لیں گے اور میں ایک بار پھر مواخذے کا سامنا کروں گا۔
صدر ٹرمپ نے ریپبلکن ارکان سے کہا کہ وہ سیاست، صحت عامہ، انتخابی اصلاحات اور دیگر اہم مسائل پر متحد رہیں اور اپنی پالیسیوں کا دفاع اس عوام کے سامنے کریں جو مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان ہے۔
رواں برس نومبرمیں ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں امریکی ایوانِ نمائندگان کی تمام نشستوں اور سینیٹ کی ایک تہائی نشستوں پر ووٹنگ ہوگی، جس سے صدر ٹرمپ کا قانون سازی ایجنڈا براہِ راست متاثر ہوگا۔
خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے ریپبلکنز کی بڑی کامیابی کی پیش گوئی بھی کی، تاہم ساتھ ہی اس تاریخی حقیقت پر تشویش کا اظہار کیا کہ عموماً اقتدار میں موجود صدر کی جماعت مڈٹرم انتخابات میں نقصان اٹھاتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ جب آپ صدارتی انتخاب جیتتے ہیں تو مڈٹرم ہار جاتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کوئی مجھے سمجھائے کہ عوام کی سوچ میں آخر چل کیا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق اب تک ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن ارکان نے صدر ٹرمپ کی بھرپور حمایت کی ہے اور اخراجات سمیت کئی معاملات میں کانگریس کے اختیارات ان کی انتظامیہ کو سونپے ہیں، تاہم حالیہ دنوں میں کچھ ارکان نے آزادانہ مؤقف اختیار کرنا شروع کیا ہے۔
رواں ہفتے ایوان میں اس ویٹو کو ختم کرنے کے لیے ووٹنگ متوقع ہے جو صدر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ کولوراڈو اور یوٹاہ میں آبی منصوبوں کی منسوخی سے متعلق جاری کیا تھا، اگرچہ یہ واضح نہیں کہ اس کے لیے مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل ہو سکے گی یا نہیں۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کو 2017 سے 2021 کے دوران ڈیموکریٹس کے زیرِ قیادت ایوانِ نمائندگان نے دو مرتبہ مواخذے کا سامنا کروایا تھا۔
ان پر یوکرین سے متعلق اختیارات کے غلط استعمال اور 6 جنوری 2021 کو کیپیٹل ہل پر ہونے والے ہنگاموں سے قبل کے اقدامات کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ تاہم ریپبلکن اکثریتی سینیٹ نے دونوں مواقع پر انہیں بری کر دیا تھا۔











