پی آئی اے کے بعد بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری: وزیراعظم کی اہم ہدایات
وزیراعظم شہباز شریف نے خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی کامیاب نجکاری بارش کا پہلا قطرہ ہے۔ وزیراعظم نے نجکاری کمیشن میں اصطلاحات کے حوالے سے کام تیز کرنے کی ہدایت بھی کردی ہے۔
منگل کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نجکاری کمیشن کے امور پر اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزرا خواجہ آصف، سردار اویس احمد خان لغاری، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری و چیئرپرسن نجکاری کمیشن محمد علی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہے، پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی کامیاب نجکاری بارش کا پہلا قطرہ ہے۔
وزیراعظم نے نجکاری کمیشن میں اصلاحات کے حوالے سے کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں کہا کہ نجکاری کمیشن میں نجی شعبے اور مارکیٹ سے بہترین صلاحیتوں کے حامل متعلقہ افرادی قوت کو تعینات کیا جائے، تمام تر تعیناتیاں انتہائی شفاف انداز میں کی جائیں۔
شہباز شریف نے نجکاری کمیشن کو ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ نجکاری کے حوالے سے تمام منصوبوں کا بین الاقوامی معیار کی فرم سے تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے۔
اس کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف نے نجکاری کمیشن میں پبلک ریلیشنز اور مارکیٹنگ کے شعبے کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس کو نجکاری کمیشن میں جاری اصلاحات پر بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن میں مارکیٹ سے فائنینس، ہیومن ریسورس، قانون، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور میڈیا مینجمنٹ کے حوالے سے ایڈوائرز بھرتی کیے جائیں گے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن میں مارکیٹ سے اسٹریٹیجی، پالیسی، ٹرانزیکشن اور پاور کے شعبوں کے کنسلٹینس تعینات ہوں گے، اسٹریٹیجک نظم و ضبط، مضبوط گورننس، ادارہ جاتی استعداد کی بہتری اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شفاف روابط نجکاری کمیشن کی جاری اصلاحات کی بنیاد ہیں۔
حکام نے مزید بتایا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کو ابتدائی طور پر دو بیچز میں رکھا گیا ہے، پہلے بیچ میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، گوجرانوالا الیکٹرک پاور کمپنی اور فیصل آباد الیکٹرک پاور کمپنی کی نجکاری ہو گی۔ دوسرے بیچ میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کی نجکاری ہو گی۔
زرعی برآمدات بڑھانے کے لیے لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ 5 برس میں زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے جامع لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے میں اصلاحات اولین ترجیح ہے، پیداوار بڑھانے کے لیے معیاری بیج فراہم کر رہے ہیں۔
وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملکی زرعی برآمدات سے متعلق نجی شعبے کے ماہرین پر مبنی ورکنگ گروپ کا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں ملک میں ربیع وخریف کی بڑی فصلوں، ان کی فی ایکڑ اوسط پیداوار، ہارٹی کلچر وپھلوں کی پیداوار اور ان کی برآمدات اور زراعت سے متعلقہ تمام شعبوں پر تقابلی جائزہ پیش کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبے کی اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہے، وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر زراعت کی ترقی کے لیے اقدامات کررہی ہے اور فی ایکڑپیداواربڑھانے کے لیے کسانوں کومعیاری بیج، کھاد اورادویات کی فراہمی کے لیے اقدامات کررہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ برآمدات کے قابل اشیا کی تیاری کے لیے پالیسی سطح پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، پاکستان کی زرعی شعبے میں ترقی کی بھرپور استعداد موجود ہے، موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے زراعت کی ترقی کے لیے تحقیق پرسرمایہ کاری کررہے ہیں تاکہ فی ایکڑپیداوار میں اضافہ ہو۔
















