یمنی علیحدگی پسند گروہ کی سعودی عرب امن مذاکرات میں شرکت پر آمادگی

یمن کی حکومت نے سعودی عرب سے امن مذاکرات کی میزبانی کی درخواست کی تھی
شائع 06 جنوری 2026 07:20pm

یمن میں متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ علیحدگی پسند گروہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) نے سعودی عرب میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایس ٹی سی کا وفد عیدروس الزبیدی کی قیادت میں سعودی عرب میں منعقد ہونے والے امن فورم میں شرکت کرے گا، جس کے نتیجے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی حمایت یافتہ افواج نے یمن کے جنوبی علاقے حضرموت اور المہرہ میں دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یمنی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی حمایت یافتہ افواج، یمنی علیحدگی پسند گروہ ایس ٹی سی سے حضرموت اور المہرہ کے علاقے واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایس ٹی سی کے جنگجو حضرموت صوبے کے دارالحکومت اور مشرقی بندرگاہ المکلہ سے واپس جا چکے ہیں، جہاں گزشتہ ہفتے سعودی اتحاد کی بمباری میں ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

یمن میں گزشتہ ماہ اس وقت کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا جب ایس ٹی سی کی فورسز نے پیش قدمی کرتے ہوئے حضرموت اور المہرا کے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ دونوں صوبے یمن کے تقریباً نصف رقبے پر مشتمل ہیں اور سعودی عرب کے سرحدی علاقے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت، صدارتی قیادت کونسل (پی ایل سی) کے سربراہ رشاد العلیمی کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والی جھڑپوں کے دوران سعودی حمایت یافتہ ’ہوم لینڈ شیلڈ فورسز‘ تمام سیکیورٹی پوزیشنز دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔

جمعے کے روز یمنی حکومت نے سعودی عرب سے علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی میزبانی کی درخواست کی تھی، جسے ایس ٹی سی نے خوش آئند قرار دیا، تاہم مذاکرات سے متعلق مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق ایس ٹی سی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں اتوار تک کم از کم 80 جنگجو ہلاک، 152 زخمی اور 130 گرفتار ہو چکے تھے۔

یہ جھڑپیں دو روز قبل حضرموت میں ایس ٹی سی کی جانب سے سعودی سرحد کے قریب بمباری کے الزامات کے بعد شروع ہوئیں، جس میں ایس ٹی سی کے مطابق سات افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوئے تھے۔

ایس ٹی سی کے ایک عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی جنگی طیاروں نے المکلا کے مغرب میں واقع برشید کے مقام پر ایس ٹی سی کے کیمپ پر شدید فضائی حملے کیے۔

ایس ٹی سی نے اسی دوران آزاد جنوبی ریاست کے دو سالہ عبوری دور کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ مذاکرات نہ ہونے یا جنوبی یمن پر دوبارہ حملے کی صورت میں آزادی کا اعلان کیا جائے گا۔

پی ایل سی سے تعلق رکھنے والے حضرموت کے گورنر سلیم الخنبشی کا کہنا ہے کہ حالیہ فوجی کارروائی جنگ کا اعلان نہیں بلکہ پرامن اور منظم طریقے سے اپنے علاقے واپس لینے کی کوشش ہے۔

پی ایل سی نے علیحدگی پسند گروہ پر شہریوں اور مسافروں کو دارالحکومت عدن میں داخل ہونے سے روکنے کا الزام بھی عائد کیا اور اس اقدام کو آئین اور ریاض معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ یمن کی حالیہ کشیدگی کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات پر براہِ راست اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

سعودی عرب، یو اے ای اور ایس ٹی سی ایک دہائی پرانے فوجی اتحاد کا حصہ ہیں جو حوثی باغیوں کے خلاف قائم کیا گیا تھا، تاہم علیحدگی پسند گروہ کی جانب سے جنوبی علاقوں میں پیش قدمی اور آزاد ریاست کے قیام کے اعلانات کے بعد یہ معاملہ سنگین صورتحال اختیار کرچکا ہے۔

سعودی عرب میں منعقد ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں اس کشیدگی میں کمی کا امکان متوقع ہے۔

Saudia Arabia

UAE

yemen

UNITED ARAB EMIRATES

Presidential Leadership Council

Southern Transitional Council

STC

PLC