فرضی گھر، سی آئی اے ایجنٹ اور ایک فیصلہ: مادورو کو پکڑنے کا امریکی آپریشن کیسے ہوا

مقصد صرف ایک تھا، مادورو کو زندہ اور کم سے کم وقت میں حراست میں لینا۔
شائع 04 جنوری 2026 09:08am

ہفتے کی صبح ٹھیک 4 بج کر 21 منٹ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک مختصر مگر دھماکہ خیز پیغام جاری کیا۔ اس پیغام میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکہ نے ایک جرات مندانہ کارروائی میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ دنیا کے لیے یہ خبر اچانک تھی، مگر پس پردہ یہ کارروائی کئی مہینوں کی منصوبہ بندی اور مشقوں کا نتیجہ تھی۔

خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ گرفتاری امریکی تاریخ کی پیچیدہ ترین خفیہ کارروائیوں میں سے ایک تھی۔

آرمی کی مشہور ڈیلٹا فورس سمیت امریکی اسپیشل فورسز نے مادورو کے محفوظ ٹھکانے کی ہو بہو نقل تیار کی۔ اسی فرضی گھر میں بار بار مشقیں کی گئیں کہ اگر اصل مقام پر مضبوط دروازے، فولادی رکاوٹیں اور بھاری سیکیورٹی ہو تو اندر کیسے داخل ہونا ہے۔

مقصد صرف ایک تھا، مادورو کو زندہ اور کم سے کم وقت میں حراست میں لینا۔

انٹیلی جنس محاذ پر سی آئی اے نے بھی خاموش مگر اہم کردار ادا کیا۔

ذرائع کے مطابق، سی آئی اے کی ایک چھوٹی ٹیم اگست سے وینزویلا میں موجود تھی جو مادورو کی روزمرہ سرگرمیوں، نقل و حرکت اور رہائش کے معمولات پر نظر رکھے ہوئے تھی۔ انٹیلی جنس ایجنسی کے پاس مادورو کے قریبی حلقے میں ایک ایسا سورس بھی موجود تھا جو عین وقت پر ان کے مقام کی نشاندہی کر سکتا تھا۔ یہی معلومات اس کارروائی کو ہموار بنانے میں فیصلہ کن ثابت ہوئیں۔

تمام تیاریاں مکمل ہونے کے بعد چار دن قبل صدر ٹرمپ نے اصولی منظوری دی، تاہم فوجی اور انٹیلی جنس حکام نے موسم بہتر ہونے اور بادل کم ہونے کا مشورہ دیا۔

بالآخر جمعے کی رات 10 بج کر 46 منٹ پر حتمی اجازت دی گئی اور اس مشن کو آپریشن ’ایبسولیوٹ ریزولو‘ کے نام سے شروع کیا گیا۔ اس وقت صدر ٹرمپ فلوریڈا میں اپنے مار اے لاگو کلب میں اپنے مشیروں کے ساتھ بیٹھ کر کارروائی کی براہ راست فوٹیج دیکھ رہے تھے۔

یہ آپریشن صرف چند اہلکاروں تک محدود نہیں تھا بلکہ ایک وسیع فوجی انتظام اس کے پیچھے موجود تھا۔

پینٹاگون نے کیریبین خطے میں پہلے ہی بڑی تعداد میں فوجی وسائل جمع کر رکھے تھے، جن میں ایک طیارہ بردار بحری جہاز، 11 جنگی بحری جہاز، جدید ایف 35 طیارے اور مجموعی طور پر پندرہ ہزار سے زائد فوجی شامل تھے۔

سرکاری طور پر یہ تعیناتی منشیات کے خلاف کارروائیوں کے لیے بتائی جاتی رہی تھی، مگر یہی فورسز اس مشن کا حصہ بنیں۔

جمعے کی رات اور ہفتے کی ابتدائی ساعتوں میں امریکی طیاروں نے کاراکس کے قریب اور اندر کئی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فضائی دفاعی نظام بھی شامل تھا۔

جنرل ڈین کین کے مطابق اس کارروائی میں 150 سے زائد طیارے شامل تھے جو مغربی نصف کُرے کے 20 مختلف بیسز سے اڑے۔ ان حملوں کا مقصد یہ تھا کہ زمینی کارروائی کے دوران کسی بڑے ردعمل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اسی دوران امریکی اسپیشل فورسز بھاری اسلحے کے ساتھ کاراکس میں داخل ہوئیں۔ ان کے پاس فولادی دروازے کاٹنے کے لیے خاص آلات بھی موجود تھے۔

رات تقریباً ایک بجے فورسز مادورو کے کمپاؤنڈ تک پہنچیں، جہاں انہیں فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا اور ایک ہیلی کاپٹر کو بھی نقصان پہنچا، مگر وہ پرواز کے قابل رہا۔

مقامی لوگوں کی بنائی گئی ویڈیوز میں کم بلندی پر اڑتے ہیلی کاپٹر شہر کے اوپر سے گزرتے دکھائی دیے۔

جب فورسز مادورو کے محفوظ ٹھکانے میں داخل ہوئیں تو وہاں موجود مضبوط دروازے بھی زیادہ دیر رکاوٹ نہ بن سکے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق چند ہی سیکنڈز میں وہ رکاوٹیں توڑ دی گئیں جو اسی مقصد کے لیے بنائی گئی تھیں کہ کوئی اندر نہ آ سکے۔

جنرل کین کے مطابق اس مرحلے پر مادورو اور ان کی اہلیہ نے مزاحمت کے بجائے ہتھیار ڈال دیے۔

ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مادورو نے سیف روم تک پہنچنے کی کوشش کی، مگر وہ دروازہ بند کرنے سے پہلے ہی پکڑے گئے۔

رائٹرز کے مطابق، کارروائی کے دوران کچھ امریکی اہلکار زخمی ہوئے، تاہم کسی کی ہلاکت کی اطلاع نہیں دی گئی۔

واپسی پر امریکی فورسز کو مختلف مقامات پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، مگر بالآخر صبح 3 بج کر 20 منٹ پر ہیلی کاپٹر مادورو اور ان کی اہلیہ سمیت سمندر کے اوپر پہنچ گئے۔

چند گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے ایک اور پیغام میں مادورو کی تصویر جاری کی، جس میں وہ آنکھوں پر پٹی، ہتھکڑیاں اور سادہ لباس میں دکھائی دے رہے تھے۔

اس تصویر کے ساتھ بتایا گیا کہ وہ امریکی بحری جہاز یو ایس ایس ایوو جیما پر موجود ہیں۔

یہ کارروائی جہاں امریکہ کے لیے ایک غیر معمولی فوجی اور انٹیلی جنس کامیابی کے طور پر پیش کی جا رہی ہے، وہیں عالمی سطح پر اس کے قانونی، سیاسی اور اخلاقی پہلوؤں پر بحث جاری ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف وینزویلا بلکہ پوری عالمی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑ سکتا ہے، جن کے نتائج آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوں گے۔

Donald Trump

VENEZUELA

Nicolás Maduro

US Attack Venezuela

Venezuela Crisis

US Raid in Venezuela