اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت اور تعلقات بہتر کرنے کے لیے تیار ہوں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) 8 فروری کے احتجاج کی کال کسی صورت واپس نہیں لے گی، عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے حوالے سے مجھے نہیں کہا تاہم صوبائی معاملات پر اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت اور تعلقات بہتر کرنے کے لیے تیار ہوں، جو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں وہ کر سکتے ہیں، پنجاب میں ناروا سلوک کے ردعمل میں سخت زبان استعمال ہوئی جس پر وزرا نے معذرت کرلی ہے۔
جمعے کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور میں سینئر صحافیوں کے ساتھ فرداً، فرداً ملاقات کی اور غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی عمران خان نے مجھے نہیں کہا، بات چیت کا ٹاسک محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے حوالے کیا گیا ہے، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ صوبائی معاملات پر بات چیت اور تعلقات بہتر کرنے کے لیے تیار ہوں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے میری ملاقات نہیں کرائی جا رہی، ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہونی چاہیے اور ڈرون حملے بند ہونے چاہئیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایسی پالیسی بنانی چاہیے جو عوامی مفادات کے مطابق ہو۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ کوئی تقریب یا میٹنگ ہوئی تو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ضرور ملوں گا۔ انہوں نے کہا کہ پشاور کو ترقی دیں گے تاہم لاہور جیسی نہیں جہاں جلسہ جلوس کرنے پر پابندی ہے، وفاق نے ضم اضلاع کے لیے اے آئی پی کے تحت 700 ارب روپے بقایاجات ابھی تک ادا نہیں کیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے اے آئی پی کے تحت برسوں میں صرف 168 ارب روپے دیے ہیں، بجلی کے خالص منافع سمیت دیگر بقایاجات کی مد میں وفاقی حکومت نے ہمارے 4 ہزار ارب روپے سے زیادہ دینے ہیں۔
پی ٹی آئی میں اکثریت حکومت سے مذاکرات چاہتی ہے، بس عمران خان نہیں چاہتے: رانا ثنا اللہ
سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے بات چیت کے حالات اور ماحول سازگار ہونا چاہیے، پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی مضبوط سانس کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کا باہر نکلنا جائز ہے، وہ اپنے بھائی کی رہائی کے لیے کوشاں ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ لاہور کا دورہ عوام میں بیداری کی لہر پیدا کرنے کے لیے کیا، کراچی جانے کا بھی مقصد یہی ہے کہ عوام بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے متحرک ہوں، بانی پی ٹی آئی صرف خیبرپختونخوا نہیں بلکہ پورے ملک کے لیڈر ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کرپشن کے حوالے سے میری حکومت کی زیروٹالرنس پالیسی ہے، میری حکومت کے اصول شفافیت، میرٹ، ترقی اورکرپشن کا خاتمہ ہیں، ضم اضلاع کے لیے 1000 ارب میں سے اب بھی 700ارب سے زائد مرکز کے ذمہ بقایا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مرکز سے ملنے والا پیسہ ترتیب سے ضم اضلاع میں خرچ کیا جائے گا، ترقی کا عمل شروع ہونے سے ضم اضلاع میں عسکریت پسندی کا خاتمہ ہوجائے گا، امن وامان کی صورت حال میری حکومت کے لیے اصل چینلج ہے جس پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہیں۔
صوبائی حکومت کی ترجیحات سے آگاہ کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ خود بھی کام کرتا ہوں اور اپنی ٹیم سے بھی کام درکار ہے، ہم نے عوام کو تبدیلی برپا کرکے دکھانی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بتایا کہ وادی تیراہ سمیت جہاں سے بھی لوگ نقل مکانی کرتے ہیں، معاوضوں کی ادائیگی صوبائی حکومت ہی کرے گی، آج بھی بانی پی ٹی آئی کی پالیسی پر کھڑے اور آپریشنز کے مخالف ہیں، ہم نے صوبائی اسمبلی میں گرینڈ جرگہ بھی اسی مقصد کے لیے بلایا جس نے آپریشنز کی مخالفت کی۔
صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحافی سنی سنائی بات رپورٹ کرنے سے پہلے رابطہ کرلیا کریں، پھر پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں اسکولوں اور اسپتالوں میں سہولیات نہیں، وفاق اگر ہمارے بقایاجات دے تو صورت حال بہتر ہو جائے گی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ مخالفین ضم اضلاع کے 75 سال کی محرومیاں بھی ہمارے کھاتے میں ڈالتے ہیں، اپنے صوبے میں بجلی کے مسئلے کے مستقل حل کی کوشش کر رہے ہیں، ٹرانسمیشن لائن اور پیسکو کے ذمہ واجب الادا رقوم کا بھی جائزہ لے رہے ہیں اور اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ وفاق کے ذمے بجلی کے خالص منافع کے مسئلے کا حل کیسے نکالا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم پیسکو کو ہی صوبائی حکومت کے زیرانتظام لانے کے لیے کوئی قدم اٹھالیں۔
حالیہ دورہ لاہور پر تبصرہ کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ لاہور میں دورے کے دوران ہم سے غلط زبان کا استعمال ہوا لیکن وہ عمل کا ردعمل تھا، ہم نے اپنے دورہ لاہور کے دوران غلط زبان کے استعمال پر معذرت کرلی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ہمارے ساتھ بہت بدتمیزی کی گئی، میرا اسکواڈ جیسے ہی گزرتا اس کے بعد وہاں موجود افراد کو حراست میں لے لیا جاتا، پہلے سے اندازہ تھا کہ پنجاب میں یہ رویہ اختیار کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ کراچی کے دورے کا پلان تیار کر رہے ہیں، کراچی میں آئی ایس ایف، آئی ایل ایف سے ملاقاتیں کریں گے۔ احتجاج سے متعلق انہوں نے کہا کہ 8 فروری کا احتجاج ہر صورت ہوگا، جنہوں نے مذاکرات کرنے ہیں وہ مذاکرات کریں۔
صوبائی حکومت کے اقدامات پر بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے آگاہ کیا کہ تمام سابقہ وزرا اور حکومتی ٹیم ارکان سے گاڑیاں واپس اور دفاتر کے تالے کھلوا لیے گئے ہیں، پشاور، ڈیرہ موٹروے پر 10 دنوں کے اندر رپورٹ مانگ لی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ میں توسیع جلد ہوگی، جن کابینہ ارکان پرالزامات تھے وہ دھلنے ضروری ہیں، ہم گورننس پر توجہ دے رہے ہیں، اپنے 100 دنوں کی کارکردگی سامنے لاؤں گا۔













