Aaj News

قابل اعتراض سوشل میڈیا پوسٹس، ایف آئی اے کو کارروائی کیلئے مزید اختیارات دینے کا فیصلہ

اس سے قبل یہ اختیار صرف پولیس کے پاس تھا۔
شائع 02 نومبر 2022 06:45pm
<p>تصویر بزریعہ اے ایف پی</p>

تصویر بزریعہ اے ایف پی

وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر جاری مواد کو لگام ڈالنے کیلئے کمر کس لی۔

حکومت کی جانب سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض مواد کے خلاف کارروائی کیلئے مزید اختیارات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی کابینہ نے سمری سرکولیشن کے ذریعے ایف آئی اے ایکٹ میں مزید ترامیم کی منظوری دے دی، جس کیی حتمی منظوری پارلیمنٹ سے لی جائے گی۔

سمری میں کہا گیا کہ نفرت انگیزی سمیت دیگر معاملات سوشل میڈیا پر بہت زیادہ ہوئے ہیں، اسی لئے ایف آئی اے کو سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پر کارروائی کا اختیار دیا جائے گا،

سمری کے مطابق سوشل میڈیا پرغلط خبروں کی بھی بھرمار ہے،جو کسی گروہ یا کمیونٹی کو بھڑکا سکتی ہیں۔

سمری میں کہا گیا کہ ایف آئی اے ایکٹ میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 505 کو شامل کیا جائے۔

سمری کے متن میں یہ بھی کہا گیا کہ ترمیم کے بعد جعلی خبر اور افواہ پر ایف آئی اے کارروائی کرسکے گا، پہلے یہ اختیار صرف پولیس کے پاس تھا۔

سمری کے مطابق پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد ملزمان کو 7 سال تک قید کی سزا ہوسکے گی۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ایکٹ پر اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دیا تھا۔

FIA

social media

PECA Act

Comments are closed on this story.

مقبول ترین