اپ ڈیٹ 03 فروری 2026 09:42pm

اسرائیلی فوج کی پہلی مسلم ترجمان مقرر ہونے والی خاتون کون ہیں؟

اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے عربی زبان کے لیے میجر عیلہ واویہ کو نیا ترجمان مقرر کیا ہے۔ وہ اسرائیلی فوج کی پہلی مسلم ترجمان ہوں گی۔ میجر عیلہ واویہ مختلف پلیٹ فارمز پر عربی زبان میں اسرائیلی فوج کا مؤقف پیش کرتی نظر آئیں گی۔

اسرائیلی فوج نے منگل کے روز میجر عیلہ واویہ کو آئی ڈی ایف کا عربی زبان کے لیے نیا ترجمان مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ اسرائیلی فوج کے عربی میڈیا ڈویژن میں بطور نائب ترجمان خدمات انجام دے رہی تھیں۔

اسرائیلی اخبار دی یروشلم پوسٹ کے مطابق میجر عیلہ واویہ اس عہدے پر کرنل اویخائی ادرعی کی جگہ لیں گی جو تقریباً 20 برس تک عربی زبان میں اسرائیلی فوج کی ترجمانی کرتے رہے۔

36 سالہ عیلہ عرب مسلم ہیں اور ان کی پیدائش اسرائیلی شہر قلنسوہ میں ہوئی، جو تل ابیب کے قریب واقع ہے اور یہاں بڑی تعداد میں عرب مسلمان آباد ہیں۔

وہ 2013 سے آئی ڈی ایف کے شعبہ اطلاعات سے وابستہ ہیں اور حالیہ عرصے میں عربی میڈیا ڈیسک کی سربراہی کر رہی تھیں۔

میجر عیلہ واویہ سوشل میڈیا پر ’کیپٹن عیلہ‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ مختلف سوشل پلیٹ فارمز پر مشرقِ وسطیٰ کے ناظرین سے براہِ راست رابطہ رکھنے کے لیے عبرانی اور عربی زبان میں ویڈیوز بناتی ہیں۔ ان کے ٹک ٹاک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس پر مجموعی طور پر تقریباً پانچ لاکھ فالوورز ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق عیلہ واویہ نے 22 سال کی عمر میں کَفر سبا شہر کے ایک اسپتال میں ملازمت اختیار کی اور اپنے اہل خانہ دو برس بعد اسرائیلی فوج میں شامل ہوگئیں تاہم انہوں نے کچھ عرصے تک اس فیصلے کو اپنے اہلِ خانہ سے چھپائے رکھا۔

فوج میں شمولیت کے بعد انہوں نے بنیادی تربیت مکمل کی اور آئی ڈی ایف کے شعبہ اطلاعات میں نان کمیشنڈ افسر کے طور پر خدمات انجام دینا شروع کیں، جہاں وہ عربی ڈیسک پر کام کرتی رہیں۔ دو برس بعد انہیں افسر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ 2015 میں انہیں اسرائیل کے صدر کی جانب سے ’بہترین سپاہی‘ کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق میجر عیلہ واویہ کو عہدہ سنبھالتے ہی لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی دی جائے گی، جس کے بعد وہ اسرائیلی فوج میں اعلیٰ ترین رینک رکھنے والی پہلی مسلم افسر بن جائیں گی۔

Read Comments