اپ ڈیٹ 24 جنوری 2026 10:11pm

گُل پلازہ آتشزدگی: لاپتا افراد کی تازہ فہرست آویزاں، سانحے کا مقدمہ درج

کراچی میں واقع شاپنگ سینٹر گُل پلازہ میں ہولناک آتشزدگی کے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ گُل پلازہ کی دکانوں سے مزید ڈی وی آرز بھی برآمد کیے گئے ہیں، جبکہ لاپتا افراد کی تازہ فہرست بھی آویزاں کردی گئی ہے، جس کے مطابق اب تک 82 افراد لاپتا ہیں۔

پولیس کی جانب سے واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف غفلت اور لاپرواہی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ سانحے کے وقت عمارت میں مناسب حفاظتی انتظامات موجود نہیں تھے۔

ایف آئی آر پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 322، 337 ایچ (ون)، 436 اور 427 دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔

مقدمے کے مطابق، عمارت کی لائٹس اور دروازے بند تھے، جس کی وجہ سے آگ بھڑکنے کے بعد بڑی تعداد میں مالی اور جانی نقصان ہوا۔

ایف آئی آر کے مطابق، تحقیقات کے بعد باقاعدہ ذمہ داروں کے نام شامل کیے جائیں گے۔ مقدمے میں تاحال کسی ایک کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے، ایف آئی آر کاٹنے کے بعد سیل کر دی گئی ہے۔

ایس ایس پی سٹی عارف عزیز کا کہنا ہے کہ ہم حتمی نتیجے پر پہنچ رہے ہیں، ایف آئی آر میں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی اور نہ ہی ابھی کوئی گرفتاری نہیں ہوئی، چوکیدار، الیکٹریشن سمیت لائٹس جس نے بند کی ان سب لوگوں کے بیانات لے لیے ہیں۔

حکام کے مطابق متاثرین کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے اور لاپتا افراد کی تازہ فہرست آویزاں کی گئی ہے۔

فہرست میں 82 لاپتا افراد کے نام شامل ہیں، جن کی عمریں 11 سے 70 سال کے درمیان ہیں۔ فہرست میں نام، گھرکا پتا اور دکان نمبر درج ہیں۔ لاپتا افراد کی تصاویر اور شناختی کارڈ کی تصاویر بھی فہرست میں شامل ہیں۔

ہفتے کے روز تحقیقاتی ٹیم نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور دو چوکیداروں سمیت عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کیے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

تحیققاتی ٹیم نے متاثرہ عمارت کے اندر متاثرہ حصوں کا بھی جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق تحقیقات کی روشنی میں ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔

گل پلازہ میں امدادی سرگرمیاں آٹھویں روز بھی جاری ہیں۔ چیف آپریٹنگ افسر ڈاکٹر عابد جلال الدین کے مطابق ملبہ ہٹانے کا کام تاحال جاری ہے اور عمارت کی 80 سے 90 فیصد سرچنگ مکمل کرلی گئی ہے۔

امدادی ٹیموں نے عمارت سے مزید ڈی وی آرز بھی برآمد کرلیے ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق متاثرہ عمارت کے50 فیصد ڈی وی آرز مل چکے ہیں جنہیں ڈپٹی کمشنر جنوبی کے دفتر منتقل کردیا گیا ہے۔

متاثرہ عمارت سے اب تک 71 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جب کہ 24 لاشوں کی شناخت کرلی گئی ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 13 افراد کی شناخت ڈی این اے اور سات افراد کی شناختی کارڈ سے ہوئی ہے۔

اس سانحے میں لاپتہ افراد کی تعداد 82 تک جا پہنچی ہے جب کہ 55 متاثرہ فیملیز نے ڈی این اے کیلئے نمونے جمع کروا دیے ہیں۔

واضح رہے کہ 17 جنوری کی شب کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے اچانک پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، جس کے بعد کمشنر کراچی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جو اس واقعے کی تحیققات کے بعد رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کرے گی۔

آگ کو وجوہات کے حوالے سے اس وقت متضاد دعوے زیرِ گردش ہیں تاہم کوئی حتمی وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی ہے۔

Read Comments