اپ ڈیٹ 24 جنوری 2026 11:57am

گُل پلازہ آتشزدگی: مزید ویڈیو ریکارڈرز برآمد، اہم انکشافات

کراچی میں واقع شاپنگ سینٹر گُل پلازہ کی ہولناک آتشزدگی کے بعد یہ سوال مسلسل اٹھتا رہا کہ آگ بروقت اور مؤثر انداز میں کیوں نہ بجھائی جا سکی۔ اب اس کی ایک بڑی وجہ سامنے آ گئی ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ کراچی فائر بریگیڈ گزشتہ ایک سال سے مستقل فائر چیف کے بغیر کام کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں، گُل پلازہ کی دکانوں سے مزید ڈی وی آرز برآمد کیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، آخری چیف فائر آفیسر اشتیاق احمد 2024 میں ریٹائر ہوئے تھے، جس کے بعد اسی سال ہمایوں خان کو ایک علیحدہ محکمے سے لا کر لُک آفٹر چارج (قائم مقام) مقرر کر دیا گیا۔

دستاویزات کے مطابق عدالت نے اگست 2025 میں حکم دیا تھا کہ سینیارٹی کی بنیاد پر تین ماہ کے اندر چیف فائر آفیسر تعینات کیا جائے، تاہم یہ حکم تاحال نافذ نہ ہو سکا۔

افسران کی سینیارٹی لسٹ میں ہمایوں خان کا نام شامل نہیں ہے، وہ اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کے لیڈر ہیں اور انہیں گریڈ بارہ سے براہ راست گریڈ سترہ میں ترقی دی گئی۔

یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ بی اے پاس ہمایوں خان چیف فائر آفیسر کے لیے درکار ایم ایس سی کی تعلیمی شرط پر پورا نہیں اترتے۔

دوسری جانب یہ انکشاف بھی ہوا کہ انسانی بو سونگھنے والے کتے، جو ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مدد دیتے ہیں، اربن سرچ اینڈ ریسکیو سے غائب ہیں۔

یہ کتے گل پلازہ کے سرچ آپریشن میں استعمال نہیں کیے گئے، حالانکہ شہری حکومت نے 2008 میں سات لاکھ روپے سے زائد مالیت کے یہ کتے پاک فوج سے خریدے تھے۔

خیال رہے کہ گُل پلازہ سانحے کے ساتویں روز بھی سرچ آپریشن جاری ہے۔ اب تک 71 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 77 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ ڈی این اے کے ذریعے شناخت کا عمل جاری ہے۔

سینئر فائر افسر ظفر خان کے مطابق اب ملبے سے لاشیں نہیں بلکہ صرف ہڈیاں مل رہی ہیں، جس سے شناخت کا عمل مزید مشکل ہو گیا ہے۔

ان کے بقول یہ کہنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ کون سی باقیات کس شخص کی ہیں۔

سانحے کے دوران لاپتا ہونے والے محسن شکاری کی بہن ناصرہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ خود اندر جا کر حالات دیکھ چکی ہیں اور اب انتظامیہ پر کوئی الزام نہیں لگاتیں۔ ان کے مطابق پہلے امید تھی کہ بھائی کا کچھ سراغ مل جائے گا، مگر اب ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔ انہوں نے عوام سے دعا کی اپیل کی۔

کے ایم سی کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کو ملبے سے تین ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈرز (ڈی وی آر) بھی ملے ہیں جو گل پلازہ کی مسجد کے اطراف میں واقع ایک کمرے سے برآمد ہوئے۔

حکام کے مطابق، متاثرہ عمارت کے 50 فیصد ڈی وی آرز مل چکے ہیں، جنہیں ڈپٹی کمشنر جنوبی کے دفتر منتقل کردیا گیا ہے۔ ان ڈی وی آرز کو تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق ان کی مدد سے آتشزدگی کی وجوہات جاننے میں پیش رفت متوقع ہے۔

ملبے سے انسانی باقیات کے ساتھ ساتھ قیمتی اشیاء کی برآمدگی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو کے مطابق گل پلازہ کے ملبے سے ڈیڑھ کلو سونا ملا ہے جس کی مالیت چھ کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔ یہ سونا متعلقہ دکان کے مالک کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ادھر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گُل پلازہ کے متاثرین کے لیے ایک کروڑ روپے بلاسود قرضے اور ہر دکاندار کو فوری طور پر پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دو ماہ کے اندر تمام دکانداروں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے گل پلازہ کو اسی حالت میں دوبارہ تعمیر کرنے اور جتنی دکانیں پہلے تھیں اتنی ہی دوبارہ بنانے کا اعلان بھی کیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سانحے پر ایف آئی آر درج کی جائے گی اور ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی، جبکہ متبادل جگہ کے لیے دو عمارتیں دیکھی جا چکی ہیں جہاں ایک سال تک کوئی کرایہ نہیں لیا جائے گا۔

اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی نے وزیراعلیٰ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وسائل کی کمی کا اعتراف دراصل ایم کیو ایم کے مؤقف کی تائید ہے۔

ان کے مطابق موجودہ بلدیاتی نظام مالی طور پر خودمختار نہیں اور وسائل نہ ہونے کا اعتراف حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے۔

دوسری طرف گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے گل پلازہ سانحے میں شہید ہونے والے فائر فائٹر فرقان علی کو ستارۂ امتیاز دینے کی صدرِ پاکستان کو سفارش کر دی ہے۔

گورنر سندھ نے شہید فرقان علی کے گھر جا کر اہل خانہ سے تعزیت کی اور ان کی بیوہ کو اسمارٹ سٹی میں پلاٹ دینے کا اعلان کیا، جس کی تعمیر بلڈر کرے گا۔

اس کے علاوہ شہید فرقان علی کے گھر کے سامنے والی سڑک کو ان کے نام سے منسوب کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔

Read Comments