گل پلازہ سرچ آپریشن: تین ڈی وی آرز مل گئے، حادثے کی ممکنہ وجہ سامنے آنے کا امکان
کراچی کی اہم شاہراہ اہم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد متاثرہ عمارت میں سرچ آپریشن جاری ہے، جس دوران ملبے سے مزید اہم شواہد برآمد ہوئے ہیں۔ اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم نے کارروائی کے دوران ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈرز (ڈی وی آر) حاصل کر لیے ہیں۔
حکام کے مطابق متاثرہ عمارت میں سرچ آپریشن کے دوران تین ڈی وی آرز(ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈز) ملے ہیں، برآمد ہونے والے یہ ڈی وی آر گل پلازہ کی مسجد کے اطراف واقع کمروں سے ملے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان ڈی وی آرز میں محفوظ فوٹیج کی مدد سے عمارت میں موجود حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا، جب کہ آگ لگنے کی ابتدا کہاں سے ہوئی، اس کا تعین بھی ریکارڈنگ کے ذریعے ممکن ہو سکے گا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ فوٹیج میں آخری بار عمارت میں داخل ہونے والے افراد اور واقعے سے قبل اور بعد میں عمارت سے باہر نکلنے والے افراد کی نشاندہی بھی کی جا سکے گی، جو تحقیقات میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
حکام کے مطابق ٹیکنکل اور فارنزک ماہرین ڈی وی آرز کا تفصیلی معائنہ کریں گے تاکہ واقعے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
دوسری جانب کراچی میں فائربریگیڈ کے پاس ایک سال سے فائر چیف نا ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، عدالت نے سینیارٹی پر تین ماہ میں چیف فائر افسر کی تعیناتی کا حکم دیا تھا، تاہم مئیر کراچی اور کے ایم سی نے عدالتی احکامات نظر انداز کردیے، حتی کہ انسانوں کی بو سونگھنے والے کتے بھی اربن سرچ اینڈ ریسکیو سے لاپتہ ہوگئے۔
انکشاف ہوا ہے کہ کراچی فائربریگیڈ گزشتہ ایک سال سے مستقل فائر چیف کے بغیر کام کر رہی ہے اور محکمہ لک آفٹر چارج کے تحت چلایا جا رہا ہے۔
آخری چیف فائر آفیسر اشتیاق احمد 2024 میں ریٹائر ہوئے تھے، جس کے بعد 2024 میں ہمایوں خان کو ایک علیحدہ محکمے سے لک آفٹر چارج دیا گیا۔ عدالت نے اگست 2025 میں سینیئر افسر کو چیف فائر آفیسر مقرر کرنے اور سینیارٹی کی بنیاد پر تین ماہ میں تقرری کا حکم دیا تھا، تاہم مئیر کراچی اور کے ایم سی نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا۔
فائربریگیڈ افسران کی سینیارٹی لسٹ میں ہمایوں خان کا نام شامل نہیں، جب کہ وہ اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کے لیڈر ہیں، جس کا بنیادی کام ڈیزاسٹر مینیجمنٹ ہے۔
مزید انکشاف ہوا ہے کہ ہمایوں خان کو 12 گریڈ سے براہ راست 17 گریڈ میں ترقی دی گئی، جب کہ ان کی تعلیمی قابلیت بھی ریسکیو ٹیم لیڈر کے لیے تجویز کردہ ایم ایس سی معیار پر پورا نہیں اترتی۔
یہ بھی سامنے آیا ہے کہ انسانی باقیات کی تلاش کے لیے استعمال ہونے والے کتّے، جو اربن سرچ اینڈ ریسکیو کا حصہ تھے، بھی لاپتہ ہیں، حالانکہ شہری حکومت نے 2008 میں سات لاکھ روپے سے زائد مالیت کے یہ کتّے فوج سے خریدے تھے۔
واضح رہے کہ ا س سے قبل سندھ حکومت نے گل پلازہ متاثرین کی بحالی کا ابتدائی پلان تیار کرلیا ہے، جس کے تحت متاثرہ دکانداروں کو عارضی طور پر کاروبار کے لیے جگہ فراہم کرنے اور نقصانات کا تخمینہ لگانے سمیت ازسرنو تعمیر کے مختلف آپشنز پر کام کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ کے ہر دکان دار کو 5،5 لاکھ روپے دینے اور دکانوں کی دوبارہ تعمیر کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ سندھ حکومت اس سے قبل گل پلازہ سانحے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان بھی کرچکی ہے۔