لاہور میں پالتو شیرنی کا 8 سالہ بچی پر حملہ، مالک گرفتار
لاہور کے علاقے اقبال ٹاؤن، بھیکھے وال کچی آبادی میں پالتو شیرنی کے حملے سے آٹھ سالہ بچی زخمی ہو گئی۔
واقعے کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
پولیس کے مطابق شیرنی کے حملے کے نتیجے میں بچی کے سر، کان اور ٹانگ پر شدید زخم آئے، جسے فوری طور پر شیخ زید اسپتال لاہور منتقل کر دیا گیا جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ترجمان لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان بلاول اور شجاعت پالتو شیرنی کو رکشے سے اتار رہے تھے کہ اسی دوران شیرنی نے اچانک کمسن بچی پر حملہ کر دیا۔ واقعے کے بعد ملزمان شیرنی کو لے کر موقع سے فرار ہو گئے۔
دریں اثنا بچی پر پالتو شیرنی کے حملے کے واقعے کے بعد پولیس نے خفیہ اطلاع پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے 11 غیر قانونی شیر تحویل میں لے لیے اور ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان شیر جانوروں میں 5 شیرنیاں، 3 شیر اور 3 شیر کے بچے شامل ہیں۔
ترجمان کے مطابق شیر نواں کوٹ کے علاقے میں ایک فیکٹری میں رکھے گئے تھے، جہاں فیکٹری کے راؤنڈ فلور پر ایمبرائیڈری کا کام جاری تھا اور فرسٹ فلور پر شیر رکھے گئے تھے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ یہ شیر چند ماہ قبل شیخوپورہ سے لاہور منتقل کیے گئے تھے اور ملزمان کے پاس لاہور میں انہیں رکھنے کا کوئی قانونی لائسنس موجود نہیں تھا۔
ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے شیر محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ ڈی آئی جی فیصل کامران نے بتایا کہ بچی کو زخمی کرنے والی شیرنی اور اس کے مالکان کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن کے ذریعے دیگر ملزمان تک رسائی حاصل کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملزمان نہ صرف شہریوں کی زندگی خطرے میں ڈال رہے تھے بلکہ جانوروں کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال رہے تھے۔ قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔