اپ ڈیٹ 18 جنوری 2026 05:14pm

گل پلازہ آتشزدگی: کئی افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاعات، ورثا کو اپنے پیاروں کی تلاش

گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ پر تاحال قابو نہیں پایا جاسکا ہے، جسے تیسرے درجے کی آگ قرار دیا گیا ہے جبکہ عمارت میں تاحال کئی افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ لواحقین نے اب تک 35 افراد کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ انتظامیہ کے پاس جمع کرادی ہے۔

کراچی کے تجارتی مرکز صدر ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگی آگ نے سیکڑوں خاندانوں کو سوگوار کردیا ہے۔ آگ بجھانے کے لیے ریسکیو ادارے اور فائر بریگیڈ کی کارروائیاں جاری ہیں تاہم ہفتے کی رات دس بجے لگنے والی آگ پر تاحال قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔

تازہ ترین صورتحال کے مطابق آگ کے نتیجے میں عمارت میں دراڑیں پڑچکی ہیں جبکہ عمارت کی عقبی اور اگلی جانب کا بڑا حصہ منہدم ہوچکا ہے، جس کے باعث ریسکیو اہلکار انتہائی احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔

اس سے قبل عمارت کا ایک حصہ گرنے سے ایک امدادی کارکن دب کر جاں بحق ہوگیا تھا۔ آتشزدگی کے واقعے میں اب تک فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق جبکہ 22 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

گل پلازہ کے باہر اس وقت رقت آمیز مناظر ہیں۔ آگ لگنے کے بعد کئی افراد لاپتہ ہیں، لوگ اپنے پیاروں کی تلاش میں پریشان ہیں۔

متاثرہ دکاندار اور ان کے اہلِ خانہ گزشتہ رات سے گل پلازہ کے باہر موجود ہیں، جو بھاری مالی نقصان کے باعث غمزدہ ہیں جبکہ کئی افراد اپنے پیاروں کی خیر خبر نہ ہونے پر غم سے نڈھال ہیں اور ان کی سلامتی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔

دو نوجوان بیٹوں کے والد واقعے سے متعلق بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے دو بیٹے گل پلازہ میں فرسٹ فلور پر کام کرتے ہیں، اب ان سے رابطہ نہیں ہورہا ہے۔

ایک خاتون متاثرہ دکان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے دہائیاں دیتی نظر آئیں۔ ان کا کہنا تھا ’یہ دکان ہمارے والد کی آخری نشانی تھی۔ آگے رمضان آنے والا ہے، ہم کیا کریں گے۔ ہمارا تو سب کچھ چھن گیا ہے‘۔

نمائندہ آج نیوز صفدر عباس کو ایک دکاندار نے بتایا کہ اس کے تین بچے اس وقت عمارت میں پھنسے ہوئے ہیں جن سے تاحال کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔

ایک اور دکاندار نے بتایا کہ اس کی پھولوں کی دکان مکمل طور پر جل کر راکھ ہوگئی ہے، تاہم وہ عمارت میں پھنسے تمام افراد کی سلامتی کے دعاگو ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق عمارت میں موجود افراد کی حتمی تعداد کے بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں تاہم حالات کے پیش نظر پھنسے افراد کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ موقع پر موجود بعض افراد نے بھی آج نیوز کو بتایا کہ ان کے پیارے عمارت میں ہی موجود ہیں جن سے رابطہ نہیں ہورہا ہے۔

کراچی گل پلازہ میں آتشزدگی واقعے کے بعد شادی کی شاپنگ کے لیے آنے والی چار خواتین سمیت مزید چھ افراد بھی تاحال لاپتہ ہیں۔

ایک خاتون نے آج نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے 22 سالہ کزن سے رات کو آخری بار رابطہ ہوا تھا، وہ مدد کے لیے پکار رہا تھا۔ اب اس کے بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمارت کے جس حصے میں ان کے کزن کی دکان تھی وہ حصہ ہماری آنکھوں کے سامنے منہدم ہوا ہے۔

ایک بزرگ خاتون نے بتایا کہ ان کی فیملی کے کچھ لوگ شادی کی شاپنگ کے لیے آئے تھے، وہ اپنے پیاروں کو اسپتالوں میں بھی ڈھونڈ رہے ہیں لیکن کل رات سے ان سے رابطہ منقطع ہے۔

ایک دکاندار کا کہنا ہے کہ جب آگ لگی تو اس وقت عمارت میں گاہکوں کی آمد و رفت جاری تھی، جس کے باعث دکانداروں کے ساتھ خریداروں کے بھی پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ اس وقت عمارت کے اطراف دھوئیں کے بادل پھیلے ہوئے ہیں جبکہ امدادی ٹیمیں بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق عمارت میں موجود پردے، قالین، فوم، پرفیوم اور پلاسٹک کے سامان کے باعث آگ تیزی سے پھیلی اور تینوں فلورز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شدید آگ کے باعث کسی کو بھی عمارت کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جارہی اور آگ کی شدت کے سبب مزید حصوں سے ملبہ گرتا نظر آرہا ہے۔

سندھ حکومت کی جانب سے ڈپٹی کمشنر نے لاپتہ افراد کا ڈیٹا جمع کرنا شروع کردیا ہے۔ لواحقین کی جانب سے اب تک 35 افراد کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ انتظامیہ کے پاس جمع کراچی جاچکی ہے۔

لاپتہ افراد کی معلومات کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے ہیلپ لائن بھی جاری کی گئی ہے۔ شہری جاری کیے گئے نمبرز 03135048048، 02199206372 اور 02199205625 پر رابطہ کرکے معلومات جمع کروا سکتے ہیں۔

Read Comments