چینی حکومت نے شرحِ پیدائش بڑھانے کا نیا منصوبہ تیار کرلیا
چین میں یکم جنوری سے مانع حمل ادویات پر 13 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے، جبکہ بچوں کی دیکھ بھال کی خدمات ٹیکس سے مستثنیٰ رہیں گی۔ یہ اقدام دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کی جانب سے پیدائش کی شرح بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین کی آبادی لگاتار تین سال کم ہوئی ہے اور 2024 میں صرف 9.54 ملین بچے پیدا ہوئے، جو ایک دہائی پہلے کے نصف کے برابر ہیں۔
گذشتہ برس اعلان کیے گئے ٹیکس اصلاحات کے تحت شادی سے متعلق خدمات اور بزرگوں کی دیکھ بھال بھی ویلیو ایڈیڈ ٹیکس سے آزاد ہوں گی۔ اس کے علاوہ والدین کی چھٹیوں میں توسیع اور نقد امداد بھی شامل ہے۔
تاہم مانع حمل ادویات پر ٹیکس نے عوام میں تشویش پیدا کردی ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ قیمت میں اضافہ انہیں زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب نہیں دے گا، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ یہ اخراجات بچوں کی پرورش کے بڑے مالی بوجھ کے مقابلے میں معمولی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ ٹیکس علامتی ہے اور بیجنگ کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگ زیادہ بچے پیدا کریں، لیکن پیدائش کی شرح میں واقعی تبدیلی کے لیے دیگر سماجی اور معاشی عوامل کو بھی حل کرنا ضروری ہے۔
مزید براں بیجنگ زیادہ سے زیادہ نوجوان چینی لوگوں کو شادی کرنے اور جوڑوں کو بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔