چینی حکومت نے شرحِ پیدائش بڑھانے کا نیا منصوبہ تیار کرلیا

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین کی آبادی لگاتار تین سال کم ہوئی ہے
شائع 01 جنوری 2026 12:14pm

چین میں یکم جنوری سے مانع حمل ادویات پر 13 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے، جبکہ بچوں کی دیکھ بھال کی خدمات ٹیکس سے مستثنیٰ رہیں گی۔ یہ اقدام دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کی جانب سے پیدائش کی شرح بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین کی آبادی لگاتار تین سال کم ہوئی ہے اور 2024 میں صرف 9.54 ملین بچے پیدا ہوئے، جو ایک دہائی پہلے کے نصف کے برابر ہیں۔

گذشتہ برس اعلان کیے گئے ٹیکس اصلاحات کے تحت شادی سے متعلق خدمات اور بزرگوں کی دیکھ بھال بھی ویلیو ایڈیڈ ٹیکس سے آزاد ہوں گی۔ اس کے علاوہ والدین کی چھٹیوں میں توسیع اور نقد امداد بھی شامل ہے۔

تاہم مانع حمل ادویات پر ٹیکس نے عوام میں تشویش پیدا کردی ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ قیمت میں اضافہ انہیں زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب نہیں دے گا، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ یہ اخراجات بچوں کی پرورش کے بڑے مالی بوجھ کے مقابلے میں معمولی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ ٹیکس علامتی ہے اور بیجنگ کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگ زیادہ بچے پیدا کریں، لیکن پیدائش کی شرح میں واقعی تبدیلی کے لیے دیگر سماجی اور معاشی عوامل کو بھی حل کرنا ضروری ہے۔

مزید براں بیجنگ زیادہ سے زیادہ نوجوان چینی لوگوں کو شادی کرنے اور جوڑوں کو بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔

china

Beijing

Birth Rate

boost birth rates

increase policy