ممکنہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کون ہیں؟

مجتبیٰ حسینی نے ایران۔عراق جنگ کے دوران حبیب بٹالین میں خدمات انجام دیں
شائع 04 مارچ 2026 01:52pm

امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو ممکنہ طور پر ان کا جانشین قرار دیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران کی 88 رکنی مجلسِ خبرگانِ رہبری نے مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے نام پر اتفاق کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کی 88 رکنی مجلسِ خبرگانِ رہبری نے ان کے نام پر اتفاق کیا ہے، تاہم باضابطہ اعلان تاحال سامنے نہیں آیا۔

مجتبیٰ حسینی خامنہ ای 1969ء میں مشہد میں پیدا ہوئے۔ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دوسرے بڑے بیٹے ہیں اور ان کے پانچ بہن بھائی ہیں۔ ان کی پرورش ایسے دور میں ہوئی جب ان کے والد سابق شاہ محمد رضا پہلوی کے خلاف سرگرم ایک نمایاں مذہبی رہنما کے طور پر ابھر رہے تھے۔

1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد خامنہ ای خاندان ریاستی نظام کے مرکز میں آ گیا۔ تہران منتقل ہونے کے بعد مجتبیٰ نے الوی ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی، جو حکومتی حلقوں سے وابستہ شخصیات کی تیاری کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

بعد ازاں انہوں نے قم میں ممتاز علما کی نگرانی میں دینی تعلیم حاصل کی، تاہم کئی دہائیوں کی تعلیم کے باوجود وہ تاحال آیت اللہ کے درجے تک نہیں پہنچ سکے۔

ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کے لیے اعلیٰ مذہبی مقام کا حامل ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث مجتبیٰ حسینی کا مذہبی درجہ سینئر علما میں بحث کا موضوع رہا ہے۔

ایران۔عراق جنگ کے دوران انہوں نے حبیب بٹالین میں خدمات انجام دیں، جہاں ان کے تعلقات ایسے افراد سے قائم ہوئے جو بعد میں ملک کے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں میں اہم عہدوں تک پہنچے۔

اگرچہ انہوں نے کبھی کوئی عوامی عہدہ یا سرکاری منصب نہیں سنبھالا، تاہم انہیں طویل عرصے سے سپریم لیڈر کے دفتر میں بااثر شخصیت سمجھا جاتا رہا ہے۔ ان کے کردار کا موازنہ اکثر سابق ایرانی سپریم لیڈر روح اللہ خمینی کے بیٹے احمد خمینی سے کیا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ان کا اثر و رسوخ بڑی حد تک پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی روابط کی وجہ سے ہے، جو ایران کی سیاسی معیشت اور سیکیورٹی پالیسی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

2019ء میں امریکا نے مجتبیٰ حسینی خامنہ ای پر پابندیاں عائد کیں اور الزام لگایا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے اختیارات کا کچھ حصہ اپنے بیٹے کو منتقل کر رکھا تھا۔ اصلاح پسند سیاست دانوں اور بعض مغربی حکومتوں نے بھی ان پر انتخابی عمل میں مداخلت اور سیکیورٹی کریک ڈاؤن کی حمایت کے الزامات عائد کیے، جنہیں ایرانی حکام مسترد کرتے رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مجتبیٰ حسینی کے پاس وسیع سرمایہ کاری نیٹ ورک موجود ہے، تاہم ان کے اثاثوں کی درست مالیت ظاہر نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں عالمی سطح پر جائیدادوں میں سرمایہ کاری اور مغربی منڈیوں میں اربوں ڈالر منتقل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔

واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے ممکنہ جانشینوں میں تین سینئر علما کے نام زیرِ غور رکھے تھے، جن میں ان کے بیٹے کا نام شامل نہیں تھا۔

ایران میں موروثی جانشینی کے تصور کو عمومی طور پر پسند نہیں کیا جاتا، خصوصاً اس نظام میں جو بادشاہت کے خاتمے کے بعد قائم ہوا۔ ایسے میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا مذہبی اشرافیہ اور سیکیورٹی ادارے مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے نام پر متفق ہوتے ہیں یا کسی قسم کی اندرونی مزاحمت سامنے آتی ہے۔