پاکستان بھر کے ایئرپورٹس سے مشرقِ وسطیٰ جانے والی آج کتنی پروازیں منسوخ ہوئیں؟

منسوخ ہونے والی پروازیں متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر سمیت دیگر ممالک کے لیے تھیں
اپ ڈیٹ 03 مارچ 2026 07:12pm

ملک کے مختلف بین الاقوامی ایئرپورٹس سے مشرقِ وسطیٰ جانے والی مجموعی طور پر 116 پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جس کے باعث ہزاروں مسافر متاثر ہوئے جب کہ منسوخ ہونے والی پروازیں متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر سمیت دیگر ممالک کے لیے تھیں۔

منگل کے روز ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورت حال کے باعث خطے کے متعدد ممالک کی فضائی حدود بند کر دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے مختلف بین الاقوامی ایئرپورٹس سے سینکڑوں پروازیں منسوخ ہو گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ملک بھر کے ایئرپورٹس پر مشرقِ وسطیٰ جانے والی 116 پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 32، اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 28 اور لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 20 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔

اسی طرح پشاور ایئرپورٹ سے دبئی، شارجہ، قطر اور ابو ظہبی جانے والی 16 فلائٹس منسوخ کی گئیں جب کہ ملتان ایئرپورٹ سے 10، فیصل آباد سے 4 اور کوئٹہ ایئرپورٹ سے مشرقِ وسطیٰ کی 2 پروازیں بھی منسوخ ہوئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 4 روز کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی 500 سے زائد پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں جب کہ متعدد ممالک کی فضائی حدود کی بندش کے باعث ایئرلائنز کو یہ اقدام کرنا پڑا، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

فضائی حدود کی جزوی بندش سے متعلق خبروں کی تردید

دوسری جانب پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے ملکی فضائی حدود کی جزوی بندش کے حوالے سے گردش کرنے والی تمام خبروں کی تردید کر دی ہے۔

ترجمان پی اے اے کے مطابق، پاکستان کی فضائی حدود ہر قسم کے کمرشل آپریشنز کے لیے مکمل طور پر محفوظ اور دستیاب ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں نوٹم نمبر A0134/26 کو غلط رنگ دے کر پیش کیا جا رہا تھا۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ یہ نوٹم کسی بندش کی علامت نہیں بلکہ صرف مخصوص روٹس کی عارضی عدم دستیابی ظاہر کرتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں کئی خلیجی ممالک نے فضائی حدود بند کردیں

ادھر ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے بعد مشرق وسطیٰ میں کئی خلیجی ممالک نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہیں، جس سے ایوی ایشن نیٹ ورک کو یومیہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا نقصان پہنچ رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اب تک 3,400 سے زائد پروازیں منسوخ یا دوبارہ روٹ کی جا چکی ہیں، جس سے خطے کے بڑے ہوائی اڈوں پر آپریشنل دباؤ بڑھ گیا ہے۔

دبئی، ابوظہبی، دوحہ، کویت اور بحرین جیسے اہم ایوی ایشن ہبز متاثر ہوئے ہیں، اور پاکستان سے خلیجی ممالک کے لیے 200 سے زائد پروازیں بھی متاثر ہوئیں۔

ماہرین کے مطابق پروازوں کی منسوخی اور ری روٹنگ کے نتیجے میں نہ صرف ایئر لائنز کے مالی نقصان میں اضافہ ہوا ہے بلکہ مسافروں اور کارگو آپریشنز پر بھی اثر پڑا ہے۔ نقصان میں عملے کے اضافی اخراجات، مسافروں کی رہائش اور دوبارہ بکنگ کے اخراجات، اور کارگو کی ترسیل میں تاخیر شامل ہیں۔

ایوی ایشن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو ایئر لائن انڈسٹری کو روزانہ 350 سے 500 ملین ڈالر کے درمیان نقصان ہو سکتا ہے، جو تقریباً 2 سے 4 بلین درہم کے برابر ہے۔