ایران پر حملوں کے لیے امریکا کون سے جدید ہتھیار استعمال کر رہا ہے؟

جنگ میں پہلی بار لوکس ڈرونز کا استعمال کیا گیا جو کہ ایرانی "شاہد 136" ڈرونز کی نقل ہیں۔
شائع 02 مارچ 2026 03:12pm

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی جانب سے ان ہتھیاروں کی فہرست جاری کردی گئی ہے جو ایران کے ساتھ جنگ میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران پر کیے گئے حملوں میں سب سے اہم کردار بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں کا ہے۔

ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کا یہ طیارہ امریکی فضائیہ کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ یہ ایٹمی اور روایتی دونوں طرح کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

حال ہی میں ان طیاروں نے میزوری (امریکا) سے 34 گھنٹے کی طویل پرواز کر کے ایران کی بیلسٹک میزائل تنصیبات کو دو ہزار پاؤنڈ کے بموں سے نشانہ بنایا۔

 بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیارہ
بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیارہ

سینٹ کام کے مطابق اس جنگ میں پہلی بار لوکس ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔ یہ کم لاگت ڈرونز ایرانی ”شاہد 136“ ڈرونز کی نقل ہیں، جنہیں روس یوکرین جنگ میں استعمال کرتا رہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب ایران کے ہی ڈیزائن کردہ ماڈل کے ذریعے اسے جواب دیا جا رہا ہے۔

 ایرانی شاہد 136 ڈرونز کی نقل امریکی لوکس ڈرونز
ایرانی شاہد 136 ڈرونز کی نقل امریکی لوکس ڈرونز

دو طیارہ بردار بحری جہازیو ایس ایس ابراہم لنکن اوریو ایس ایس جیرالڈ آڑ فورڈ بھی اس وقت خطے میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ’ارلے برک‘ کلاس کے ڈسٹرائیرز بحری جہازوں سے ٹوما ہاک میزائل فائر کیے گئے ہیں۔

  یو ایس ایس ابراہم لنکن اوریو ایس ایس جیرالڈ آڑ فورڈ
یو ایس ایس ابراہم لنکن اوریو ایس ایس جیرالڈ آڑ فورڈ

ایران کی جانب سے آنے والے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے پیٹریاٹ اور تھاڈ سسٹم استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایران نے جوابی حملے جاری رکھے تو ان سسٹمز کے ذخائر میں کمی آ سکتی ہے۔

 تھاڈ میزائل ڈیفنس سسٹم
تھاڈ میزائل ڈیفنس سسٹم

فضائی کارروائیوں میں ایف-22، ایف-35، ایف-16 اور ایف/اے-18 طیاروں نے حصہ لیا۔ اس کے علاوہ ٹینک شکن اے-10 طیارے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

 امریکی لڑاکا طیارے
امریکی لڑاکا طیارے

الیکٹرانک وارفیئر اور جاسوسی کا نظام ’ای اے-18جی گراؤلر‘ دشمن کے ریڈار اور مواصلات کو جام کرنے کے لیے استعمال ہوا۔

 لڑاکا طیارے میں نصب ای اے-18جی گراؤلر سسٹم
لڑاکا طیارے میں نصب ای اے-18جی گراؤلر سسٹم

ایویکس طیارے فضا میں اڑتے ہوئے ریڈار اسٹیشن ہیں جنہوں نے دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھی۔

 ایویکس طیارہ
ایویکس طیارہ

اس کے علاوہ آر سی-135 طیارے نے جاسوسی کی اور انٹیلی جنس جمع کی۔

  آر سی-135 طیارہ
آر سی-135 طیارہ

ایم کیو-9 ریپر ڈرونز اہم اہداف کو نشانہ بنانے اور نگرانی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

ہائیمارس ایک ٹرک پر نصب راکٹ سسٹم ہے جو ”فائر کرو اور بھاگو“ صلاحیت رکھتا ہے تاکہ جوابی حملے سے بچا جا سکے۔ اس کی رینج 300 میل سے زائد ہے۔

 ہائیمارس راکٹ سسٹم
ہائیمارس راکٹ سسٹم

فضا میں طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے کے سی-135 اور کے سی-46 فضائی آئل ٹینکرز استعمال ہو رہے ہیں، جو طویل مشن کے لیے ناگزیر ہیں۔

  کے سی-135 اور کے سی-46 فضائی آئل ٹینکرز
کے سی-135 اور کے سی-46 فضائی آئل ٹینکرز

اس کے علاوہ سی-17 اور سی-130 کارگو طیاروں کے ذریعے بھاری مقدار میں اسلحہ اور فوج مشرق وسطیٰ منتقل کی گئی۔

سی-17 اور سی-130 کارگو طیارے
سی-17 اور سی-130 کارگو طیارے