جارحیت کرکے ایران کی کمر میں چھرا گھونپا گیا ہے، روسی مندوب

آیت اللہ خامنہ ای کے بارے میں اس وقت کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا، انتونیو گوتریس
شائع 01 مارچ 2026 09:12am

مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری ہے جہاں مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر عالمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں۔

اخبار وال اسٹریٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سلامتی کو نسل کا ہنگامی اجلاس ہوا جس سے خطاب میں روسی مندوب نے کہا کہ جارحیت کرکے ایران کی کمر میں چھرا گھونپا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی الزامات بے بنیاد ہیں، آئی اے ای اے نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے۔

روسی مندوب کا کہنا تھا کہ عراق جنگ کے لیے بھی بے بنیاد دعویٰ کیا گیا تھا، مذاکرات کرنے والے ایران کے شہریوں پر حملوں کی یورپی ممالک مذمت نہیں کر رہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے پر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ 

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ عالمی قانون کی ہمیشہ پاسداری کی جانی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر تمام رکن ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کی ضمانت دیتا ہے اور کسی بھی ملک کے خلاف طاقت کا استعمال عالمی قانون کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے اور موجودہ صورتحال عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق ایران میں کم از کم بیس شہری حملوں کا نشانہ بنے، جو تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی تنازعات کا حل صرف مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے نکالا جا سکتا ہے اور جنگ کسی مسئلے کا دیرپا حل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کو جنگ کے دہانے سے واپس لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اجلاس کے دوران فرانس کے مندوب نے خطے کے دیگر ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ ایران خطے میں عدم استحکام کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔ بحرین کے مندوب نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران نے بحرین پر حملہ کرکے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

ایرانی مندوب نے اجلاس میں کہا کہ ایران پر حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل اور امریکا نے شہری آبادی کو نشانہ بنایا اور یہ اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایرانی مندوب نے دعویٰ کیا کہ مناب شہر پر حملے میں سو سے زائد بچے مارے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنے دفاع میں امریکا اور اسرائیل کو جواب دیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے پاکستان، سعودی عرب، چین اور روس کا شکریہ ادا کیا کہ ان ممالک نے ایران کے مؤقف کی حمایت کی۔

اجلاس میں اسرائیلی حکام کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کا بھی ذکر کیا گیا، تاہم اس حوالے سے سیکرٹری جنرل نے محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں اگرچہ مختلف اور متضاد آرا سامنے آئیں، تاہم اس بات پر اتفاق دیکھا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنا ضروری ہیں تاکہ مزید جانی نقصان اور تباہی سے بچا جا سکے۔