آیت اللہ خامنہ ای کون ہیں اور امریکا اُنہیں کیوں نشانہ بنانا چاہتا ہے؟
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آیا ایران کی اعلیٰ قیادت، خصوصاً سپریم لیڈر، کو براہ راست نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے یا نہیں۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ حملے ملک کے مختلف حصوں سمیت دارالحکومت تہران میں بھی کیے گئے۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق چند میزائل ایسے علاقوں میں گرے جو صدارتی محل اور سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ کے قریب واقع ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کا رخ ان مقامات کی طرف تھا جو سپریم لیڈر کے دفاتر کے قریب ہیں۔ فوری طور پر نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر خامنہ ای کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
86 سالہ خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر ہیں۔ انہوں نے ایران کے بانی رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد یہ منصب سنبھالا۔ خمینی نے 1979 کے اسلامی انقلاب کی قیادت کی تھی جس کے نتیجے میں شاہِ ایران کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور ایران میں اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی۔
سپریم لیڈر کے طور پر خامنہ ای ایران میں سب سے بااختیار شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں ریاستی امور، مسلح افواج، عدلیہ اور اہم پالیسی فیصلوں پر حتمی اختیار حاصل ہے۔ وہ فوج کے کمانڈر ان چیف بھی ہیں اور کسی بھی بڑے حکومتی فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ایران کے سیاسی نظام میں صدر منتخب ہوتا ہے، لیکن سپریم لیڈر کو وسیع اختیارات حاصل ہوتے ہیں جو انہیں ملک کا اصل طاقتور ترین فرد بناتے ہیں۔
1939 میں مشہد کے ایک مذہبی خاندان میں پیدا ہونے والے خامنہ ای نے کم عمری میں دینی تعلیم حاصل کی اور جلد ہی مذہبی حلقوں میں پہچان بنا لی۔ شاہِ ایران کے دور میں وہ حکومت کے ناقدین میں شامل رہے، متعدد بار گرفتار ہوئے اور جیل بھی کاٹی۔
1979 کے انقلاب کے بعد ان کا سیاسی کردار مضبوط ہوا۔ 1981 میں وہ ایران کے صدر منتخب ہوئے اور 1989 میں سپریم لیڈر مقرر ہوئے۔
اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ سادہ طرزِ زندگی اختیار کرتے ہیں اور تہران میں ایک کمپاؤنڈ میں قیام کرتے ہیں۔ انہیں شاعری اور باغبانی کا شوق ہے۔
1980 کی دہائی میں ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد سے ان کا دایاں بازو متاثر ہے۔ ان کی اہلیہ منصورہ خجستہ باقرزادہ سے ان کے چھ بچے ہیں۔ ان کے خاندان کے افراد عموماً عوامی منظرنامے سے دور رہتے ہیں، تاہم ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کا نام بعض اوقات اندرونی سیاسی حلقوں میں لیا جاتا ہے۔
اپنے دورِ قیادت میں خامنہ ای نے مغربی ممالک خصوصاً امریکہ کے ساتھ کشیدہ تعلقات کا سامنا کیا ہے۔ ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں اور ملک کے اندر مختلف مواقع پر احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔ خامنہ ای امریکہ کو ایران کا سب سے بڑا دشمن قرار دے چکے ہیں جبکہ اسرائیل کے خلاف بھی سخت موقف رکھتے ہیں۔ ان کی طاقت کا اہم ذریعہ ایران کے دو بڑے سیکیورٹی اداروں، اسلامی انقلابی گارڈ کور اور بسیج فورس، کی وفاداری سمجھی جاتی ہے۔ یہ ادارے ملکی سلامتی اور داخلی نظم و ضبط میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
گزشتہ مہینوں میں اسرائیلی اور امریکی رہنماؤں کی جانب سے سخت بیانات بھی سامنے آئے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا تھا کہ خامنہ ای مزید موجود نہیں رہ سکتے، جبکہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اشارہ دیا تھا کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانا تنازع کے خاتمے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مختلف مواقع پر ایران کی قیادت کے خلاف سخت بیانات دے چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کسی ملک کی اعلیٰ قیادت کو براہ راست نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ فی الحال صورتحال غیر یقینی ہے اور دنیا بھر کی نظریں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر جمی ہوئی ہیں۔













