چین اپنے شہریوں کی عالمی سطح پر نگرانی کیسے کرتا ہے؟ امریکی میڈیا کے دعوے
چین کی کمیونسٹ پارٹی کے سابق عہدیدار ما روئی لن نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے ہے کہ بیجنگ حکومت نہ صرف اپنے شہریوں بلکہ بیرونِ ملک، بالخصوص امریکا میں مقیم چینی باشندوں کی بھی نگرانی کی منظم مہم چلا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 50 سالہ ما روئی لن، جو کبھی چینی صوبے گانسو میں کمیونسٹ پارٹی کے یونائیٹڈ فرنٹ ورک ڈیپارٹمنٹ کے نائب سیکریٹری تھے، اس وقت نیویارک میں ریسٹورنٹ چلا رہے ہیں۔
انہوں نے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ یونائیٹڈ فرنٹ ایک وسیع پروپیگنڈا اور اثرورسوخ کا نیٹ ورک ہے، جسے موجودہ چینی صدر شی جن پنگ کے دور میں مزید وسعت دی گئی۔ ان کے مطابق 2019 کے بعد اس محکمے کے عملے میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوا۔
ما روئی لن کا کہنا تھا کہ یونائیٹڈ فرنٹ امریکا میں بھی سرگرم ہے اور طلبہ تنظیموں اور کمیونٹی گروپس کے ذریعے اثرورسوخ بڑھاتا ہے۔
امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے انسدادِ جاسوسی شعبے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر رومن روزہاوَسکی کے مطابق امریکا میں سیکڑوں چینی آپریٹو کام کر رہے ہیں، جسے انہوں نے امریکی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
ان کے بقول، چین کی جانب سے بیرونِ ملک مخالف آوازوں کو دبانے کی مہم نہایت وسیع اور جارحانہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی فردِ جرم میں یونائیٹڈ فرنٹ کا نام متعدد مقدمات میں آیا، جن میں 2023 میں مین ہیٹن کے چائنا ٹاؤن میں مبینہ خفیہ چینی پولیس اسٹیشن چلانے کا کیس بھی شامل ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم سیف گارڈ ڈیفنڈرز کی 2022 کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کم از کم 102 ایسے مراکز کام کر رہے تھے۔ تاہم بیجنگ حکومت نے بیرونِ ملک کسی بھی غیرقانونی سرگرمی یا جاسوسی کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔
ما روئی لن مسلم اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران مذہبی گروہوں کی نگرانی، مساجد کی بندش، اماموں کی برطرفی اور نگرانی کے کیمرے نصب کرنے جیسے اقدامات میں کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق سنکیانگ میں ایغور اور دیگر مسلم اقلیتوں کے خلاف کریک ڈاؤن نے انہیں شدید احساسِ ندامت میں مبتلا کیا تھا۔
امریکا اور اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق سنکیانگ میں لاکھوں افراد کو حراستی مراکز میں رکھا گیا، جب کہ چین ان مراکز کو پیشہ ورانہ تربیتی ادارہ قرار دیتا ہے۔
سی این این کے مطابق ما روئی کا کہنا تھا کہ انہوں نے حج پر جانے والے چینی مسلمانوں کی نگرانی کے لیے ریڈیو فریکوئنسی سے لیس کلائی بینڈ متعارف کرایا اور مذہبی مقامات کا ڈیٹا بیس تیار کیا، جو بعد میں نگرانی کے وسیع نظام کا حصہ بن گیا۔ ان کے بقول، یہ اقدامات مذہبی اقلیتوں کے لیے بیڑیاں ثابت ہوئے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ چین میں اقلیتوں کو مرحلہ وار ضم کرنے اور ان کی شناخت مٹانے کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب چینی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنکیانگ میں سماجی استحکام، معاشی ترقی اور مذہبی ہم آہنگی موجود ہے اور تمام نسلی گروہوں کے حقوق قانون کے تحت محفوظ ہیں۔
ما روئی لن فروری 2024 میں اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ہمراہ امریکا منتقل ہوئے۔ ابتدا میں انہوں نے فوڈ ڈیلیوری کا کام کیا اور اب نیویارک میں دو لانژو نوڈل ریسٹورنٹس چلا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چین میں موجود ان کے اہلِ خانہ کو ان کے بیانات کے باعث مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ خاموش رہنا ممکن نہیں تھا۔ ان کے الفاظ میں جو کچھ میں کر رہا ہوں، وہ میری توبہ اور معافی ہے۔













