پاک افغان کشیدگی: دونوں ملکوں کے پاس عسکری قوت میں کیا کیا ہے؟

پاکستانی افواج بھرتی کے مضبوط نظام کے باعث افرادی قوت برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں
شائع 27 فروری 2026 03:18pm

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں تیزی آ گئی ہے اور رات بھر ہونے والی جھڑپوں کے بعد دونوں جانب سے بھاری نقصانات کے دعوے کیے گئے ہیں۔ پاکستان کے وزیر دفاع نے موجودہ صورتحال کو ’کھلی جنگ‘ قرار دیا ہے، جس کے بعد خطے میں تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ایسے میں عسکری ماہرین کی توجہ دونوں ممالک کی فوجی طاقت کے موازنے پر مرکوز ہو گئی ہے۔ لندن میں قائم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی فوجی صلاحیت افغانستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج بھرتی کے مضبوط نظام کے باعث افرادی قوت برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاکستان کو اپنے بڑے دفاعی شراکت دار ، چین سے جدید عسکری ساز و سامان بھی حاصل ہے۔ اسلام آباد ایٹمی پروگرام میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے اور بحریہ و فضائیہ کو بھی جدید بنایا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج میں مجموعی طور پر تقریباً 6 لاکھ 60 ہزار فعال اہلکار شامل ہیں۔ ان میں سے 5 لاکھ 60 ہزار فوج میں، 70 ہزار فضائیہ میں اور 30 ہزار بحریہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پاکستان کی فوج کو بہتر بھرتی اور تربیت کا نظام حاصل ہے جبکہ چین اس کا بڑا دفاعی شراکت دار ہے جو جدید سازوسامان فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اپنی بحری اور فضائی قوت کو جدید بنانے کے ساتھ ساتھ جوہری پروگرام میں بھی مسلسل سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

دوسری جانب افغانستان میں طالبان کی حکومت کے پاس تقریباً ایک لاکھ 72 ہزار فعال اہلکار موجود ہیں۔ اگرچہ طالبان نے اپنی افواج کو بڑھا کر دو لاکھ تک لے جانے کا اعلان کیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ان کی عملی صلاحیت میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے غیر ملکی افواج کا چھوڑا ہوا سازوسامان اپنے قبضے میں لیا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس جدید اسلحے کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت میں کمی آئی ہے۔ طالبان حکومت کو عالمی سطح پر مکمل تسلیم نہ کیے جانے کی وجہ سے بھی دفاعی جدیدکاری متاثر ہوئی ہے۔

زمینی طاقت کے لحاظ سے پاکستان کے پاس 6 ہزار سے زائد بکتر بند گاڑیاں اور 4 ہزار 600 سے زیادہ توپ خانہ موجود ہے۔ افغانستان کے پاس بھی بکتر بند گاڑیاں اور سوویت دور کے ٹینک اور بکتر بند نفری بردار گاڑیاں موجود ہیں، تاہم ان کی درست تعداد واضح نہیں۔ اسی طرح افغانستان کے توپ خانے کی صحیح تعداد بھی معلوم نہیں، اگرچہ مختلف اقسام کے ہتھیار ان کے پاس موجود ہیں۔

فضائی طاقت کے میدان میں فرق مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے پاس 465 جنگی طیاروں کا بیڑا ہے جبکہ 260 سے زائد ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں، جن میں لڑاکا، کثیر المقاصد اور ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔ اس کے برعکس افغانستان کے پاس کوئی فعال لڑاکا طیارہ موجود نہیں اور اس کی باقاعدہ فضائیہ بھی نہیں ہے۔

اطلاعات کے مطابق افغانستان کے پاس کم از کم 6 طیارے اور 23 ہیلی کاپٹر موجود ہیں، جن میں سے کئی سوویت دور کے ہیں، تاہم ان میں سے کتنے قابلِ پرواز ہیں اس کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

جوہری صلاحیت کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کے درمیان نمایاں فرق ہے۔ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے اور اس کے پاس تقریباً 170 جوہری وار ہیڈز موجود ہیں، جبکہ افغانستان کے پاس کوئی جوہری ہتھیار نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے تناظر میں عسکری طاقت کا یہ فرق خطے کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، تاہم کسی بھی تنازع کا پائیدار حل مذاکرات اور سفارتی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔