جنیوا: ایران امریکا مذاکرات بے نتیجہ ختم، آئندہ بیٹھک ویانا میں ہوگی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر جلد پیش رفت نہ ہوئی تو خطے میں وسیع جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
شائع 27 فروری 2026 02:25pm

ایران اور امریکا کے درمیان عمان کی ثالثی میں جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں بھی کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہ آسکی۔ اس سے قبل عمان میں ہونے والے مذاکرات بھی بے نتیجہ ختم ہوئے تھے۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں جمعرات کے روز ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات معنقد ہوئے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان دو نشستیں ہوئیں، تاہم دونوں ملک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

اس سے قبل منگل کو ہونے والے بالواسطہ مذاکرات بھی کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے تھے جس کے باعث خطے میں کشیدگی تاحال برقرار ہے۔

عمانی وزیرِ خارجہ سید بدر البوسعیدی نے اس نشست کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریق جلد اپنے اپنے دارالحکومتوں میں مشاورت کے بعد دوبارہ مذاکرات کےلیے بیٹھیں گے۔

انہوں نے حالیہ نشست میں کسی حتمی پیش رفت یا بنیادی اختلافات کے خاتمے کی تصدیق نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات آئندہ ہفتے ویانا میں ہوں گے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق عمانی وزیرِ خارجہ جمعے کو واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر امریکی حکام سے بھی ملاقات کریں گے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات کے دوران کچھ امور پر اتفاق ہوا ہے جب کہ بعض معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا اگلا دور ایک ہفتے کے اندر ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ایک بار پھر امریکی پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر امریکا جوہری اور غیر جوہری معاملات کو الگ کر دے تو ایران امریکا معاہدہ ممکن ہے۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کو بھی مذاکرات کا حصہ بنانے کے لیے بضد ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو کہا کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام پر بات نہ کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ میزائل امریکا کو نشانہ بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

اس سے قبل 19 فروری کو صدر ٹرمپ نے ایران کو 10 سے 15 دن میں معاہدہ کرنے کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ایسا نہ کیا گیا تو اس کا انجام بہت برا ہوگا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں لیکن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جس کا صاف مطلب یہی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کی دھمکیوں کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس معاملے پر جلد کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو خطے میں وسیع جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔