کراچی معاہدے پر بلاول کے دستخط ہیں، پنجاب تقسیم ہو سکتا ہے تو سندھ کیوں نہیں؟ خالد مقبول صدیقی
خالد مقبول صدیقی نے آج نیوز کے پروگرام ’’نیوز انسائیٹ ود عامر ضیا‘‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے ملک میں صوبے بڑھنے چاہئیں، سندھ کی تقسیم کو غداری قرار دینا بڑی غلطی ہے اور فیصلے میرٹ پر ہونے چاہئیں۔
چیئرمین متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان خالد مقبول صدیقی نے آج نیوز کے پروگرام ”نیوز انسائیٹ وِد عامر ضیا“ میں ملک میں صوبوں کی تقسیم اور انتظامی اصلاحات پر اپنا مؤقف پیش کیا۔
انہوں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب تقسیم ہو سکتا ہے تو سندھ کیوں نہیں، پورے ملک میں صوبے بڑھنے چاہئیں اور صوبے کی تقسیم کو غداری قرار دینا ایک بڑی غلطی ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ کراچی سے متعلق معاہدے پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے دستخط بھی موجود ہیں، جب کہ مولانا فضل الرحمان سمیت پوری قیادت کے دستخط بھی شامل ہیں، اس لیے یہ کوئی یک طرفہ فیصلہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام فیصلے میرٹ پر ہونے چاہئیں تاکہ ملک میں شفافیت برقرار رہے۔
انہوں نے پاکستان کی تاریخ اور صنعتی ترقی کے حوالے سے گفتگو میں کہا کہ ہم پاکستان کی بات 1947 سے کریں گے، پانچ ہزار سال پرانے معاملات پر نہیں۔ صنعتیں پاکستان کے قیام کے بعد لگی ہیں اور یہ ملک کی ترقی کا حصہ ہیں۔ 2013 میں ان کی جماعت اکثریت سے منتخب ہوئی تھی جب کہ اس وقت ایم کیوایم حکومت میں شامل نہیں تھی۔
خالد مقبول صدیقی نے 26 ویں آئینی ترمیم کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے اس میں 140 اے کی مانگ کی تھی، جو صرف ان کی ضرورت نہیں بلکہ پورے ملک میں انتظامی اصلاحات کے لیے اہم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کے فیصلے ملک کے مفاد میں ہونے چاہئیں۔
صدیقی کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ سندھ سمیت ملک کے دیگر صوبوں میں انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں کے قیام کے لیے سیاسی مکالمہ جاری رہنے کا امکان ہے، اور یہ بحث ملک کی جغرافیائی و سیاسی حیثیت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔












