پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک کی امریکی سفیر کے غزہ سے متعلق ’اشتعال انگیز بیانات‘ کی مذمت

اس نوعیت کے بیانات امن کے فروغ کے بجائے کشیدگی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں، ترجمان دفترِ خارجہ
شائع 22 فروری 2026 11:04am

پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک نے اسرائیل کے لیے امریکی سفیر کے حالیہ بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دے دیا ہے۔ اس حوالے سے وزرائے خارجہ کا مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ایسے بیانات عالمی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول کا کوئی بھی اشارہ ناقابل قبول ہے اور مسلم ممالک اس قسم کے اشتعال انگیز ریمارکس کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔

ترجمان کے مطابق یہ مشترکہ مذمتی اعلامیہ پاکستان، مصر، اردن اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری کیا گیا، جبکہ اس میں انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور کویت بھی شامل ہیں۔ مزید برآں عمان، بحرین، شام، لبنان اور فلسطین کے وزرائے خارجہ نے بھی اعلامیے کی تائید کی۔ اس کے علاوہ عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم اور خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹریٹس بھی مشترکہ بیان میں شامل ہیں۔

اعلامیے میں زور دیا گیا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات امن کے فروغ کے بجائے اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ دوسروں کی زمین پر قبضے کو جائز قرار دینا نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے امن کے مقاصد کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

مشترکہ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ وژن اور غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے کا بنیادی مقصد کشیدگی میں کمی اور سیاسی حل کی راہ ہموار کرنا ہے، جبکہ حالیہ بیانات اس وژن سے براہ راست متصادم ہیں۔

مسلم ممالک نے واضح کیا کہ مذکورہ منصوبہ رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ پر مبنی ہے، لہٰذا ایسے اشتعال انگیز بیانات امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں۔

اعلامیے میں اعادہ کیا گیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی بھی دیگر مقبوضہ عرب سرزمین پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں ہے۔

وزرائے خارجہ نے مغربی کنارے کے الحاق یا اسے غزہ کی پٹی سے جدا کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاری کی توسیع کی شدید مخالفت کی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ عرب ریاستوں کی خودمختاری کے خلاف کسی بھی خطرے کو قطعی طور پر نامنظور قرار دیا جاتا ہے۔

مشترکہ مذمتی بیان میں خبردار کیا گیا کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات کا تسلسل خطے میں تشدد اور تنازع کو مزید بھڑکائے گا اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچائے گا۔ مسلم ممالک نے ایسے اشتعال انگیز بیانات کے فوری خاتمے کا مطالبہ بھی کیا۔

اعلامیے میں وزارتوں نے فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام اور تمام عرب علاقوں سے قبضے کے خاتمے پر زور دیا۔

مسلم ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔