رمضان میں ’ڈیجیٹل اے آئی بھکاریوں‘ سے ہوشیار
مصنوعی ذہانت کے اس ڈیجیٹل دور میں رمضان میں آن لائن بھیک مانگنے کے نئے طریقے زور پکڑ رہے ہیں، جن میں اے آئی کا استعمال کیا جا رہا ہے اور اب بھیک مانگنا صرف گلیوں اور سڑکوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ مکمل طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے منظم اور اسکیل کیا جانے والا کاروبار بن چکا ہے۔
سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس پر شہریوں سے مدد کے نام پر رقم وصول کرنے والے گروہ نہ صرف جذبات کو بھڑکانے والی پوسٹس شیئر کر رہے ہیں بلکہ بیمار یا ضرورت مند افراد کی جعلی تصاویر، ویڈیوز اور دستاویزات بھی تیار کر رہے ہیں۔
خلیج ٹائمز کے مطابق یو اے ای حکام کا کہنا ہے کہ ہر آن لائن اپیل کے پیچھے حقیقی ضرورت مند نہیں ہوتے اور کچھ پوسٹس مکمل طور پر اے آئی کے ذریعے تخلیق کی جاتی ہیں تاکہ عوام کی ہمدردی اور عطیہ دینے کی خواہش کو بھڑکایا جا سکے۔
رمضان کی آمد کے ساتھ ہی یہ آن لائن اپیلیں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ واٹس ایپ گروپس، انسٹاگرام پوسٹس اور کمیونٹی پیجز پر ضرورت مندوں کی مبینہ کہانیاں شیئر کی جا رہی ہیں جن میں بچوں یا بزرگ افراد کی بیمار تصاویر شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے بہت سی اپیلیں مکمل طور پر جعلی ہیں اور انہیں اے آئی کی مدد سے چند منٹوں میں تیار کیا جا سکتا ہے۔
اے آئی کی مدد سے دھوکہ دہی کرنے والے نہ صرف تصاویر اور ویڈیوز تخلیق کرتے ہیں بلکہ جعلی اسپتال رپورٹس، دستاویزات، اور مؤثر داستانیں بھی تیار کرتے ہیں جو عوام کی ہمدردی اور عطیات کو بڑھاوا دینے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
بریگیڈیر علی سلیم نے بتایا کہ آن لائن بھیک مانگنے کے طریقے اب بہت پیچیدہ اور تکنیکی ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھوکہ دہی کرنے والے اے آئی سے تیار شدہ تصاویر، جعلی اسپتال رپورٹس اور دیگر ڈیجیٹل مواد استعمال کرتے ہیں تاکہ عوام کی ہمدردی کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک اے آئی سے بنائی گئی تصویر ہزاروں شیئرز لا سکتی ہے۔ جعلی میڈیکل رپورٹ، ہزاروں روپے اکٹھے کر سکتی ہے۔ ایک تیار کی گئی آواز کا پیغام، سیکنڈوں میں شکوک دور کر دیتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہا کہ ”ہم الیکٹرانک بھیک مانگنے اور اے آئی سے تیار کی گئی دھوکہ دہی کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید آلات سے لیس ہیں۔“
ہمیں خیرات کرنے کے اپنے جذبے کی حفاظت کے لیے دانشمندی سے کام لینا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ہمدردی اور احتیاط دونوں کی ضرورت ہے۔ حکام کے پاس جدید نگرانی اور ڈیجیٹل فارنزک ٹولز موجود ہیں، جو ایسی دھوکہ دہی کی سرگرمیوں کی فوری شناخت کر سکتے ہیں اور ذمہ دار افراد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
بریگیڈیر عمر احمد ابو الزود، ڈائریکٹر جنرل، جنرل ڈیپارٹمنٹ آف کرمنل سیکیورٹی اینڈ پورٹس، نے کہا کہ آن لائن بھیک مانگنا اب منظم اور حکمت عملی کے تحت کیا جاتا ہے۔ رمضان کے دوران خیرات کی بڑھتی ہوئی شرح کے باعث یہ سرگرمیاں عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حکام سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور ایسے نیٹورکس کی شناخت کے لیے جدید تحقیقاتی ٹولز استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کہ جعلی اپیلیں نہ صرف مالی نقصان کا سبب بنتی ہیں بلکہ اصل خیراتی اداروں پر عوام کا اعتماد بھی کمزور کرتی ہیں۔ جب جعلی کہانیاں سوشل میڈیا پر غلبہ حاصل کر لیتی ہیں، تو حقیقی ضرورت مند افراد کی مدد پر شکوک و شبہات پیدا ہو جاتے ہیں اور انہیں نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
حکام نے عوام سے کہا ہے کہ صرف لائسنس یافتہ خیراتی اداروں کے ذریعے عطیات دیں، نجی بینک اکاؤنٹس یا کرپٹو کرنسی کے ذریعے رقم منتقل کرنے سے گریز کریں اور مشکوک اپیلیں فوراً پولیس یا سائبر کرائم پلیٹ فارمز پر رپورٹ کریں۔ دبئی پولیس، شارجہ پولیس اور ایمرجنسی ہیلپ لائنز اس سلسلے میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔
قانونی پہلو پر، یو اے ای میں غیر قانونی آن لائن بھیک مانگنے پر فیڈرل ڈکری لاء نمبر 34 برائے 2021 کے تحت تین ماہ قید اور دس ہزار درہم جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔
منظم نیٹ ورک کے لیے چھ ماہ یا زیادہ قید اور ایک لاکھ درہم سے زائد جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے، جبکہ بغیر اجازت فنڈ ریزنگ کے لیے پانچ سال تک قید اور 2.5 لاکھ سے ایک ملین درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
قانونی ماہر محجوب العبید نے کہا کہ یہ قوانین عوام کے اعتماد اور خیرات کے نظام کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں اور اے آئی یا نقلی مواد کے استعمال کے ساتھ کیے جانے والے فراڈ پر اضافی جرمانے بھی لاگو ہو سکتے ہیں۔
کچھ شہریوں نے بھی آن لائن بھیک مانگنے کے اثرات کا براہ راست سامنا کیا ہے۔ ایک شہری نے بتایا کہ اس نے ایک بزرگ کے لیے طبی سہولیات فراہم کیں، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ چیزیں فروخت کر دی گئی تھیں۔
ایک اور شہری نے بتایا کہ بچوں یا بیمار افراد کے لیے رقم بھیجی، بعد میں پتہ چلا کہ کہانی جھوٹی تھی۔ ایسے تجربات نے لوگوں میں آن لائن اپیلوں کے بارے میں محتاط رویہ پیدا کر دیا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ رمضان میں خیرات کی بڑھتے ہوئے رجحان کے دوران، عوام کو محتاط اور ہوشیار رہنا چاہیے، صرف مستند اور لائسنس یافتہ اداروں کے ذریعے عطیات دینا چاہیے اور مشکوک آن لائن سرگرمیوں کی فوری رپورٹنگ کرنی چاہیے۔















