ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور مکمل؛ امریکا نے مزید لڑاکا طیارے مشرقِ وسطیٰ پہنچا دیے
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ختم ہوگیا ہے۔ یہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں جاری ہیں اور دونوں ممالک کے نمائندوں نے کئی اہم امور پر بات چیت کی۔
مذاکرات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ رہنما اصولوں پر مفاہمت ہوئی ہے، تاہم ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھی ہے لیکن حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید تفصیلی مذاکرات ضروری ہیں۔
دوسری جانب امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران آئندہ دو ہفتوں میں اپنے جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی تجاویز پیش کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات کو کم کیا جا سکے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی حکام نے مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا ذکر کیا، تاہم یہ بھی کہا کہ کئی اہم نکات پر ابھی مزید بات چیت ہونا باقی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ سے متعلق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ بات چیت بعض صورتوں میں تعمیری رہی، تاہم ابھی اہم اختلافات موجود ہیں۔ فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ تہران تاحال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقرر کردہ بعض ریڈ لائنز پر بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔
جے ڈی وینس نے ریڈ لائنز کی تفصیل بیان کرنے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کسی حل کی تلاش میں سنجیدگی سے کوشاں ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کی بنیادی خواہش یہ ہے کہ ایران کسی بھی ذریعے سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ نائب صدر نے یہ بھی بتایا کہ دونوں ممالک آئندہ ملاقات پر متفق ہو چکے ہیں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کا بالکل خواہاں نہیں اور اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنا پرامن جوہری پروگرام کبھی ختم نہیں کرے گا، تاہم اگر کوئی ملک یا عالمی ادارہ تصدیق کرنا چاہے تو ایران اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ایرانی صدر کے مطابق جاری مذاکرات کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن نوعیت کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران بات چیت کے ذریعے اپنے مؤقف کو واضح کرنا چاہتا ہے تاکہ شکوک و شبہات کو دور کیا جا سکے۔
ادھر اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں مزید درجنوں لڑاکا طیارے تعینات کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان طیاروں میں ایف 35، ایف 16 اور ایف 22 شامل ہیں، جبکہ فضا میں ایندھن فراہم کرنے والے ٹینکر طیاروں کی نقل و حرکت بھی دیکھی گئی ہے۔ اس پیش رفت کو خطے کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
دریں اثنا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو تباہ کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران دباؤ میں آنے والا نہیں اور اپنی پالیسیوں پر قائم رہے گا۔















