بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیراعظم اور ارکانِ پارلیمنٹ نے حلف اُٹھا لیا
بنگلہ دیش کی تیرہویں جاتیہ سنگسد کے نومنتخب ارکانِ پارلیمنٹ نے حلف اٹھا لیا، نامزد وزیراعظم طارق رحمان نے بھی بطور رکن پارلیمان حلف لیا، جس کے بعد انہیں وزارتِ عظمیٰ کا حلف دلائے جانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کی تیرہویں جاتیہ سنگسد کے نومنتخب ارکان سے چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم نصیرالدین نے حلف لیا۔ نامزد وزیراعظم طارق رحمان نے بھی بطور رکن پارلیمان حلف اٹھایا۔
حلف برداری کے بعد ارکانِ پارلیمان نامزد وزیراعظم کے لیے حقِ رائے دہی استعمال کریں گے، جس کے بعد مرحومہ خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان بطور وزیراعظم حلف اٹھائیں گے۔
وزیراعظم اور کابینہ کی حلف برداری کی تقریب آج شام منعقد ہوگی جس میں ملکی و غیر ملکی شخصیات شرکت کریں گی۔
وزیراعظم اور کابینہ کی حلف برداری کی تقریب میں پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم شہباز شریف کی جگہ وفاقی وزیر احسن اقبال کر رہے ہیں۔ احسن اقبال بنگلہ دیش میں اعلیٰ سطح کے حکام سے اہم ملاقاتیں بھی کریں گے۔
دریں اثنا بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کے اتحادیوں نے حالیہ عام انتخابات میں 212 نشستیں حاصل کر کے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی، جس کے بعد حکومت سازی کی راہ ہموار ہوئی۔ جبکہ جماعت اسلامی 68 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ طلبہ کی جماعت این سی پی نے 6 نشستیں جیتی تھیں۔
اس سے قبل بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس نے قوم سے خطاب میں اعلان کیا تھا کہ عبوری حکومت سبکدوش ہو رہی ہے اور نئی منتخب حکومت کے آنے کا راستہ ہموار ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عام انتخابات میں ووٹرز اور سیاسی جماعتوں نے ایک مثال قائم کی ہے۔
محمد یونس نے امید ظاہر کی کہ بنگلہ دیش میں جمہوری عمل، آزادی اظہار اور بنیادی حقوق کا تسلسل برقرار رہے گا۔ انہوں نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی شاندار کامیابی کو سراہتے ہوئے پارٹی سربراہ طارق رحمان کو مبارکباد بھی دی۔
واضح رہے کہ عبوری حکومت تقریباً 18 ماہ سے ملک کا نظم و نسق سنبھالے ہوئے تھی۔ اس دوران محمد یونس نے 2024ء میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سیاسی عبوری دور کی قیادت کی، عام انتخابات کرائے اور جین زی کے مطالبات پر مبنی آئینی اصلاحات کے لیے ریفرنڈم بھی منعقد کرایا۔














