جنیوا: ایرانی وزیرِ خارجہ کی عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ سے اہم ملاقات

عباس عراقچی کے ہمراہ ایرانی جوہری ماہرین کی ٹیم بھی موجود تھی: ایرانی میڈیا
شائع 16 فروری 2026 06:11pm

ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کے دوسرے دور سے پہلے ایران نے سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے۔

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق وزیرِ خارجہ عباس عراقچی امریکا کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں موجود ہیں جہاں ان کی عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔

ملاقات کے دوران ایران کے حفاظتی معاہدوں (سیف گارڈز) کے دائرہ کار اور ایرانی پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کے مطابق ایران اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے درمیان تعاون سے متعلق متعدد تکنیکی امور زیر بحث آئے۔

مذاکرات کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان جاری بالواسطہ جوہری مذاکرات کے حوالے سے تہران کا تکنیکی مؤقف بھی پیش کیا گیا۔

رافیل گروسی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ اس ملاقات کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے جنیوا میں کل ہونے والے اہم مذاکرات کی تیاری کے سلسلے میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ تفصیلی تکنیکی بات چیت مکمل کر لی ہے۔

اس ملاقات میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ہمراہ ایران کے جوہری ماہرین کی ٹیم بھی موجود تھی۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق تنازع پر مذاکرات کا دوسرا دور ہونے جارہا ہے جبکہ امریکی جنگی بحری جہازوں کی مشرقِ وسطیٰ میں تعیناتی نے کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات کا پہلا دور 6 فروری کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں منعقد ہوا تھا، جس میں عمان نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔

ان مذاکرات میں ایران کی نمائندگی عباس عراقچی جبکہ واشنگٹن کی نمائندگی امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کی تھی۔ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے جارہا ہے۔

عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ منصفانہ اور متوازن معاہدے کے لیے ٹھوس تجاویز کے ساتھ جنیوا میں موجود ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دھمکیوں کے آگے جھکنا مذاکرات کا حصہ نہیں۔

واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے مذاکرات کا دائرہ ایران کے میزائل ذخیرے سمیت غیر جوہری معاملات تک وسیع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم تہران کا مؤقف ہے کہ وہ صرف اپنے جوہری پروگرام پر قدغنوں کے بدلے پابندیوں میں نرمی پر بات چیت کرے گا اور یورینیم کی مکمل صفر افزودگی قبول نہیں کرے گا۔

اُدھر امریکی حکام نے مشرقِ وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھی بھیج دیا ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں ناکامی کی صورت میں امریکا طویل فوجی کارروائی کے امکانات پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ امریکی معاہدے میں صرف افزودگی روکنا کافی نہیں ہوگا بلکہ ایران کے جوہری ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔